شیعہ نیوز: عبری زبان کے اسرائیلی ای مجلے والا نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند صیہونی وزیر برائے اندرونی سلامتی اتمار بن گویر کی جانب سے دسمبر 2022 کے روز یہ عہدہ سنبھالے جانے کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں کم از کم 110 فلسطینی قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔ والا نے “مہلک پالیسی؟ بن گویر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں 110 فلسطینی سکیورٹی قیدی ہلاک” کے عنوان شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں جیلوں میں نافذ بن گویر کی انتہاء پسندانہ پالیسیوں کو “مہلک” قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان میں وہ قیدی بھی شامل ہیں کہ جنہیں اسرائیلی حکام “سکیورٹی قیدی” قرار دیتے تھے، یعنی وہ فلسطینی مزاحمتکار کہ جو “اسرائیلی قبضے” کے خلاف لڑ رہے تھے۔
عبری زبان کے صیہونی مجلے نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی اموات کی وجوہات کے بارے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ بن گویر کی جانب سے اندرونی سلامتی کی وزارت کا قلمدان سنبھالے جانے کے بعد سے ان اموات کی تعداد میں “نمایاں اضافہ” ہوا ہے۔ واضح رہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جیوش پاور نامی یہودی پارٹی کے رہنما اتمار بن گویر نے گذشتہ 2 برسوں سے نہ صرف فلسطینی قیدیوں کے خلاف ظالمانہ پالیسیاں لاگو کر رکھی ہیں بلکہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دیئے جانے کے ساتھ ساتھ “اسرائیلی جیلوں میں موجود سہولیات” میں مزید کمی لانے پر بھی بارہا زور دیا ہے۔
The post اسرائیلی عقوبت خانوں میں مزید 110 فلسطینی شہری شہید appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


