spot_img

ذات صلة

جمع

اسرائیلی فوج کی ٹارگٹ کلنگ کارروائی، القسام کے کمانڈر اور سابق اسیر فرح حامد غزہ میں شہید

شیعہ نیوز: رام اللہ کے علاقے سلواد سے تعلق رکھنے والے اور غزہ کی پٹی میں شہر بدر اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے رہنما اور اسیرِ محرر فرح احمد حامد الناطور (عرف ابو عبیدہ) جمعہ کے روز غزہ میں ایک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔

رپورٹ کے مطابق 43 سالہ شہید فرح حامد کو جنوب مغربی غزہ کے علاقے شیخ عجلین میں الرشید کوسٹل ہائی وے کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک ہولناک فضائی حملے کی زد میں آئے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

شہید فرح حامد 4 نومبر 1976ء کو کویت میں ایک فلسطینی گھرانے میں پیدا ہوئے جو اصل میں رام ہلا اور البیرہ کے علاقے سلواد کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تعلیم، جدوجہد، قید اور جلاوطنی میں گزارا۔ فرح نے کویت، اردن اور فلسطین کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں غزہ کی اوپن یونیورسٹی سے سوشل سائنسز میں بیچلر، القدس ٹیکنیکل کالج سے ملٹری سائنسز میں ڈپلومہ اور غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں : یمن کے حجہ صوبے میں سعودی جاسوس ڈرون مار گرایا گیا

القسام بریگیڈز میں شمولیت اور عسکری خدمات

فرح حامد 2001ء میں حماس میں شامل ہوئے اور دوسری انتفاضہ کے دوران عز الدین القسام بریگیڈز میں شمولیت اختیار کی۔ وہ سلواد میں القسام کے مشہور سیل کا حصہ بنے جس نے قابض اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے خلاف کئی دلیرانہ کارروائیاں کیں۔

انہوں نے متعدد مزاحمتی آپریشنز میں حصہ لیا جن میں ترمسعیا کا پہلا آپریشن (اگست 2002ء)، ریمونیم کارمیلُو کا آپریشن (نومبر 2002ء) اور عین یبرود کا مشہور آپریشن (اکتوبر 2003ء) شامل ہے، جس میں کئی اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

گرفتاری، طویل قید اور جلاوطنی

طویل تعاقب اور چھاپوں کے بعد قابض فوج نے 20 دسمبر 2003ء کو فرح حامد کو گرفتار کر لیا۔ انہیں المسکوبیہ کے تفتیشی مرکز میں ساٹھ دن تک شدید ترین جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ صیہونی عدالتوں نے انہیں سات عمر قید کی سزائیں سنائیں جبکہ قابض فوج نے ان کے والد اور ان کے ذاتی گھروں کو بھی مسمار کر دیا۔

فرح حامد نے جیل کے اندر تقریباً آٹھ سال گزارے، جہاں وہ قیدیوں کی صفوں میں نمایاں تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ بالآخر 2011ء میں معاہدہ “وفاء الأحرار” (شیلات ڈیل) کے تحت ان کی رہائی عمل میں آئی، تاہم رہائی کے بعد قابض دشمن نے انہیں جبراً غزہ پٹی جلاوطن کر دیا۔

غزہ میں سرگرمیاں اور شہادت

غزہ میں جلاوطنی کے دوران بھی فرح حامد کی سرگرمیاں ماند نہ پڑیں۔ وہ 2017ء سے “احرار مرکز برائے تاریخی دستاویزات” کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور انہوں نے مزاحمتی تاریخ پر کئی کتابیں بھی تحریر کیں۔ وہ مئی 2021ء کے لیے طے شدہ فلسطینی پارلیمانی انتخابات کے لیے حماس کی فہرست “القدس موعدنا” کے امیدوار بھی تھے۔

قابض فوج نے طویل عرصے تک ان کا تعاقب جاری رکھا۔ 2014ء کی جنگ میں ان کا اپارٹمنٹ بمباری سے تباہ کر دیا گیا، 2021ء میں وہ ایک اور قاتلانہ حملے میں بال بال بچے اور بالآخر 9 ستمبر 2026ء کو غزہ شہر میں ایک سفاکانہ فضائی حملے میں وہ اپنے رب سے جا ملے۔

شہید فرح حامد نے اپنی پوری زندگی استقامت، جہاد اور وطن کی محبت میں گزاری اور اپنے پختہ عزم کے ساتھ تاریخ میں امر ہو گئے۔

The post اسرائیلی فوج کی ٹارگٹ کلنگ کارروائی، القسام کے کمانڈر اور سابق اسیر فرح حامد غزہ میں شہید appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img