شیعہ نیوز: اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی “انروا” کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مشرقی القدس میں “انروا” کے دفتر سے اقوام متحدہ کا جھنڈا اتار کر اس کی جگہ اسرائیلی جھنڈا لگا دیا، اور اس اقدام کو “بین الاقوامی قانون کے خلاف نیا چیلنج” قرار دیا۔
لازارینی نے “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی پولیس نے سوموار کی صبح کے وقت شیخ جراح میں واقع “انروا” کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا، جس کے دوران قابض بلدیہ کے اہلکار بھی موجود تھے۔ انہوں نے عملے کو اندر داخل ہونے والے موٹر سائیکلیں، ٹرک اور فورک لفٹ استعمال کرنے پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی وزیر پھانسی کے پھندے کی علامت کے ساتھ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے کمپاؤنڈ کی تمام رابطے منقطع کر دیے اور کچھ فرنیچر اور آئی ٹی ساز و سامان قبضے میں لے لیا۔ اس عمل کو اسرائیل کی جانب سے “بالکل نظر انداز” قرار دیا، جبکہ وہ اقوام متحدہ کی رکن ریاست ہونے کے ناطے انروا کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔
لازارینی نے یاد دلایا کہ انروا کے عملے کو اس سال کے آغاز میں دفتر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے قبل کئی ماہ تک مسلسل ہراسانی کی گئی، جس میں سنہ 2024ء میں جان بوجھ کر آگ لگانے کے واقعات، احتجاج اور میڈیا کے ذریعے گمراہ کن معلومات شامل تھیں، نیز قابض کنیٹ کے ذریعے منظور شدہ انروا مخالف قوانین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ قابض اقدامات کے باوجود دفتر اب بھی اقوام متحدہ کے ماتحت ہے اور مکمل حفاظتی حصانت رکھتا ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی امتیازات اور حصانات کی کنونشن میں واضح ہے، جو اسرائیل کو دفتر اور اس کی ملکیت کی حفاظت کا پابند بناتی ہے۔
لازارینی نے مزید کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ انروا اور اقوام متحدہ کی دیگر ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرے، اور کہا کہ “کسی بھی فریق کو یہ دعویٰ کرنے کا حق نہیں کہ کوئی استثناء موجود ہے۔”
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اقدام “سنگین خلاف ورزی اور تشویشناک مثال” ہے، جو اقوام متحدہ کے کام کو دنیا کے کسی بھی مقام پر متاثر کر سکتا ہے۔
The post اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس میں انروا کے دفتر سے اقوام متحدہ کا جھنڈا اتار دیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


