شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسرائیلی کابینہ کے اس فیصلے کا انکشاف، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں 34 نئی استعماری بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ایک بار پھر قابض دشمن کے ان جرائم اور سازشوں کی تصدیق کرتا ہے جن کا مقصد فلسطینی جغرافیے کو یہودی بنانا ہے۔
ایک بیان میں حماس نے مزید کہا کہ یہ اقدام علاقائی حالات اور بین الاقوامی مصروفیات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے زمین پر جبری حقائق مسلط کرنے اور الحاق کی پالیسی پر عمل درآمد کی ایک بدترین کوشش ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیرِ بستیوں کا یہ منصوبہ بھی ماضی کے دیگر منصوبوں کی طرح باطل اور غیر قانونی ہے، جو زمین کی حقیقت کو ذرہ برابر بھی تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے قابض دشمن کو کوئی قانونی جواز حاصل ہو سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم پر خاموش نہیں رہیں گے، حسام بدران
بیان میں کہا گیا کہ ہمارا فلسطینی عوام اپنی زمین پر ثابت قدم ہے اور اپنے قومی حقوق سے پوری طرح وابستہ ہے، اور دشمنِ مجرم کی وحشیانہ سفاکیت اور دہشت گردی انہیں ان غاصبانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں ناکام بنانے سے ہرگز نہیں روک سکتی۔
حماس نے عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگی مجرم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کو ہمارے عوام کی جبری بے دخلی کی پالیسیوں سے روکنے کے لیے فوری متحرک ہوں اور قابض دشمن کی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھائیں۔
اس سے قبل کے روز ہی دیوار اور بستی سازی کے خلاف مزاحمتی اتھارٹی نے انکشاف کیا تھا کہ قابض اسرائیل شمالی مغربی کنارے اور الخلیل کے علاقوں میں 34 نئی بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اس اقدام کو استعماری منصوبے کی توسیع کے حوالے سے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا گیا ہے۔
اتھارٹی کے سربراہ مؤید شعبان نے بتایا کہ نام نہاد اسرائیلی کابینہ (کابینٹ) کی جانب سے خفیہ طور پر لیا گیا یہ فیصلہ نوآبادیاتی استعمار کی رفتار میں غیر معمولی اضافے کی نمائندگی کرتا ہے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر مستقل جبری حقائق مسلط کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
The post اسرائیل کی جانب سے 34 نئی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ الحاق کی پالیسی کا حصہ ہے، حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


