انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو پر حملہ، مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں، سیاسی جلوسوں، عید میلادالنبیﷺ، عاشورہ محرم اور چہلم کے جلوسوں کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا، گویا ملکی معیشت، معاشرت اور ثقافت کو دہشتگردوں نے بُری طرح متاثر کیا۔ قاسم علی قاسمی نے کہا علامہ سید ساجد علی نقوی کی پُرامن حکمت عملی سے تکفیری دہشتگرد غیر موثر ہوئے، اس حوالے سے علامہ شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق، پروفیسر ساجد میر کی کاوشوں سے تشکیل پانے والی ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کا وجود اس کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد ناکام رہے، ملک میں شیعہ سنی کی تفریق پر فسادات نہیں کروائے جا سکے، لیکن مقام حیرت ہے کہ اسلام آباد میں ہر سال اس بدبودار گروہ کو گندی ذہنیت پر مبنی بکواسات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام آدمی اس دوغلی پالیسی کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک طرف دہشت گردوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے، تو دوسری طرف دہشت گرد گروہ کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکمرانوں اور قومی سلامتی کے اداروں سے اپیل ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عزم کرے کہ آئندہ دہشت گردی کیلئے بچھووں اور سانپوں کی دوبارہ سرپرستی نہیں کی جائے گی۔
The post اسٹیبلشمنٹ آئندہ دہشتگرد بچھووں اور سانپوں کی سرپرستی نہ کرنے کا عزم کرے، شیعہ علماء کونسل appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


