شیعہ نیوز: بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اور دہشتگردوں کی سرپرستی افغان طالبان رجیم کی پہچان بن چکی ہے۔
طالبان رجیم کے آمرانہ رویے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں نے افغانستان کو سفارتی اور اقتصادی تنہائی کی طرف دھکیل دیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 40 ممالک نے مشترکہ بیان میں افغانستان میں خواتین پرکڑی پابندیوں کی شدید مذمت کی۔
ان ممالک نے افغان خواتین کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جو اپنے حقوق اور آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
اپنے مشترکہ بیان میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی منظم خلاف ورزیاں جاری ہیں، مسئلے پر عالمی توجہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کام پر پابندیاں افغانستان کی معیشت اور سماجی استحکام کو طویل مدتی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : فتنہ الخوارج کے 2 ڈرون کو سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے مار گرایا
یوناما کی نئی تحقیق کے مطابق افغانستان میں خواتین کو انصاف تک رسائی میں مردوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
سفارتکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے مؤثر اقدامات اور پالیسی تبدیلیوں پر زور دیا۔
طالبان رجیم کی پالیسیاں صرف افغان خواتین کے حقوق کی پامالی نہیں بلکہ پورے ملک کی ترقی اور مستقبل کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔
افغان طالبان دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے بجائے خواتین کی سماجی، معاشرتی اور اقتصادی زندگی پر توجہ دیں۔
The post افغان طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیاں اور خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف دنیا بھر سے آوازیں اٹھنے لگیں appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


