spot_img

ذات صلة

جمع

مشرق ـ مغرب کوریڈور کے مسودے کی کلیات کی منظوری

ہرات ـ مزارشریف ریلوے پروجیکٹ کی بنیاد پر مشرق...

عراق کے نخلستانوں میں “مشی”

ہرے بھرے نخلستانوں کے درمیان سے اور فرات...

امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے اختلافات میں شدت

شیعہ نیوز: غزہ کے بارے میں امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں

رپورٹ کے مطابق غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اس علاقے کی حکومت، نیشنل ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کئے جانے کے بارے میں، پیس کونسل کا نقشہ راہ سامنے آنے کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلاف شدید تر ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ٹی وی چینل 13 نے تل ابیب کے ایک اعلی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر امریکی حکومت نے جنگ بندی سمجھوتے کے دوسرے مرحلے اور حماس کے غیر مسلح ہونے سے پہلے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاف کے نقشہ راہ پر اصرار کیا تو تل ابیب اور واشنگٹن کے روابط زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ ٹرمپ کے لیے سیاسی موت، مقبولیت تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

اس اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہوئے بغیر صیہونی حکومت غزہ سے پسپائی ہرگز قبول نہیں کرے گی اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس شرط کی تکمیل سے پہلے غزہ سے فوج نکالنے پر کسی بھی صورت میں تیار نہیں ہیں۔

دوسری طرف امریکی حکام نے صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل 13 سے گفتگو میں کہا ہے کہ ٹرمپ کو نقشہ راہ پر عمل درآمد میں اسرائیل کے مکمل تعاون کی امید ہے اور اگر تل ابیب نے تعاون نہ کیا تو وہ اس حکومت سے نا امید ہوجائيں گے۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکا آئندہ چند ہفتوں میں اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز اور حماس اور فلسطینی انتظامیہ کی جگہ غزہ کا انتظام ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو سونپنا چاہتا ہے۔

دو دن قبل اسرائیل کے ایک سیاسی عہدیدار نے ٹی وی چینل 13 سے گفتگو میں، اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت موجودہ حالات میں اس منصوبے میں تعاون نہيں کرنا چاہتی اور حماس کے غیر مسلح ہوئے بغیر اسرائیلی فوج اپنے مورچوں سے پیچھے نہيں ہٹے گی۔

اسی سلسلے میں میڈیا ذرائع نے امریکی صدر ٹرمپ کے نام حماس نیز قطر اور مصر سے (جو ثالث ہیں) منسوب ایک خط کی خبر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت غزہ میں جنگ جاری رکھنا چاہتی ہے ۔

اس خط میں ٹرمپ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نتن یاہو کو غزہ میں فوجی کارروائیوں سے روکا جائے۔

ایک اور باخبرذریعے نے بتایا ہے کہ ٹرمپ سے کہا گیا ہے کہ غزہ سے متعلق سمجھوتے پر عمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ نتن یاہو ہیں۔

دوسری جانب اس منصوبے کے تعلق سے صیہونی حکومت کے اندر بھی اختلافات کی خبر ہے چنانچہ یشارپارٹی کے صدر گادی آئزنکوت نے جو آئندہ پارلیمانی الیکشن میں، نتن یاہو کے حریف ہیں، کہا ہے کہ ایک بار پھر ایک اہم سمجھوتے کی تفصیلات اسرائیلی عوام کو بیرونی میڈیا سے معلوم ہوئیں اور اس مسئلے نے اسرائیلی وزیر اعظم کے وعدوں اور زمینی حقائق میں دوری کو برملا کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نتن یاہو، جنگ کے اعلان شدہ اہداف کے حصول کے بغیر ہی اس جنگ سے پہنچنے والے سنگین نقصانات کی وجہ سے امریکا کے سخت سیاسی دباؤ میں ہیں۔

ادھر صیہونی حکومت کے اندرونی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے پیس کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے سمجھوتے کے متن کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حماس کے اراکین پر حملے روک دینے کا مطلب، اس تحریک کے حملوں کے لئے زمین ہموار کرنا ہے۔

صیہونی حکومت کے اس سخت ترین انتہا پسند وزیر ایتارمار بن گویر نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

The post امریکہ اور اسرائیلی حکومت کے اختلافات میں شدت appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img