تحریر: محمد حسین بھشتی
دنیا میں تھوڑی سی بھی سیاسی اور تاریخی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد اب اس حقیقت کو بخوبی دیکھ اور سمجھ رہے ہیں کہ امریکی خناسیت، شیطانیت اور فرعونیت کس حد تک عیاں ہوچکی ہے۔ اقوامِ متحدہ، جسے عالمی امن اور انصاف کا ضامن سمجھا جاتا تھا، آج محض طاقتور ممالک کے مفادات کی نگہبان بن کر رہ گئی ہے۔ بقول حضرت علامہ اقبالؒ، یہ ادارہ صرف “کفن چوروں کی انجمن” کے سوا کچھ نہیں، جو انسانیت کے مفادات کی بجائے چند طاقتور ملکوں کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔ اقبالؒ نے یورپ کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھا: “مغرب کی تہذیب ایک جنگل ہے، جس میں درختوں کا سایہ تک نہیں ہوتا” اس میں انہوں نے یہ دکھایا کہ مغربی تہذیب میں ظاہری ترقی تو ہے، لیکن اندر سے یہ نہ صرف انسانیت سے خالی ہے، بلکہ ایک وحشی اور بے رحم طاقت کے طور پر کام کر رہی ہے۔
آج امریکی سامراج کا کردار دنیا کے سامنے ایک بے نقاب حقیقت کی طرح آچکا ہے اور اس کا اصل مقصد محض عالمی سطح پر اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار، جمہوریت اور مساوات کے بلند و بانگ دعوے صرف وقتی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ جہاں ان مفادات کو خطرہ لاحق ہو، وہاں یہ اصول بھی پامال ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اقبالؒ کے اس قول سے واضح ہوتا ہے: “وہ تیرے دل کی طرح اپنا بھی دل رکھتے ہیں” یعنی مغربی ممالک کے لیے اپنے مفادات کے سوا کچھ نہیں اور ان کے دعوے صرف جھوٹے ہیں۔ اب امریکی فرعونیت نے دنیا میں اپنا حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے۔ فلسطین، لبنان، یمن، وینزویلا اور ایران میں براہِ راست یا بالواسطہ مداخلت، دہشت گردی و پابندیوں کے ذریعے مظلوموں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
یہاں تک کہ اقبالؒ کے اشعار میں جس “فرعونیت” کا ذکر کیا گیا تھا، وہ اب امریکی شکل میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہے: “ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے” یہ اشعار اس بات کے غماز ہیں کہ مسلمان اور کمزور اقوام ابھی تک اس فرعونیت کے ہاتھوں غلام ہیں اور انہیں بیدار ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی دنیا پر وہی فرعونی سرمایہ دارانہ نظام اور شیطانی طاقتیں مسلط ہیں، جو اپنے مفادات کے لیے تمام انسانیت کو غلام بنا چکی ہیں۔ حقوقِ انسانیت، حقوقِ خواتین اور حقوقِ جانور کے ادارے بھی دراصل انہی طاقتوں کے نمائندے ہیں، جو مظلوموں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن دراصل ان کا مقصد دنیا بھر میں ظلم و جبر کا نظام قائم کرنا ہے۔ یہ حقیقت اقبالؒ کے اس اشعار میں بھی چھپی ہوئی ہے: “مغرب کا فلسفہ خودی کو مٹا کر انسانیت کا قتل کر دیتا ہے” یہ مغربی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے انسانیت کا قتل کر رہی ہیں اور ان کا مقصد دنیا بھر میں اپنے تسلط کو قائم رکھنا ہے۔
اس تمام پس منظر میں، ایک سوال اہمیت اختیار کرتا ہے: کیا امریکہ اپنی فرعونیت کے ذریعے پوری دنیا پر اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔؟ تاریخ ہمیشہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی فرعون زمین پر حکمرانی کے لیے اٹھا، اس کا انجام عبرتناک ہوا: “انسان کی تقدیر کا فیصلہ خود انسان ہی کرتے ہیں” یہ اقبالؒ کا پیغام ہے کہ اگر دنیا کے آزاد و خود مختار ممالک متحد ہو کر اس فرعونی طاقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو انہیں شکست دی جا سکتی ہے۔ آج دنیا کے خوددار ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس جدید فرعون اور شیطان کے مقابل کھڑے ہوں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ شیطانی طاقت نہ صرف کمزور اقوام کو بلکہ پوری انسانیت کو اپنی تباہ کن پالیسیوں کے ساتھ لے ڈوبے گی۔
The post امریکی فرعونیت اپنے عروج پر ہے appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


