spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی پالیسی اسرائیل نوازی کے دائرے میں

تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

یہ نظریہ بین الاقوامی سیاست میں خاصا زیرِ بحث رہا ہے کہ ایران کے مسئلے پر اسرائیل نے امریکی پالیسی کو اس حد تک متاثر کیا کہ امریکہ کی ایران پالیسی اکثر اسرائیلی سیکیورٹی ترجیحات کے مطابق ڈھلتی رہی۔ اس مؤقف کے حامی کئی اسٹریٹجک، سیاسی اور تاریخی دلائل پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں ان دلائل کو منظم اور تفصیلی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

1) ایران کو ’’وجودی خطرہ‘‘ بنا کر امریکی پالیسی کو شکل دینا
اس نظریے کے حامل افراد کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کو صرف ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ’’existential threat‘‘ (وجودی خطرہ) کے طور پر پیش کیا، جس سے امریکی پالیسی سازوں پر مسلسل دباؤ قائم رہا۔ اسرائیلی قیادت مسلسل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی بقا کے لیے خطرہ قرار دیتی رہی۔ اس بیانیے نے امریکی کانگریس اور میڈیا میں ایران کو ’’مرکزی دشمن‘‘ کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کی ایران پالیسی زیادہ سخت ہو گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کا خطرہ حقیقی ہو سکتا ہے مگر اسے جس شدت اور فوری خطرے کے طور پر پیش کیا گیا وہ اسرائیلی سیکیورٹی ترجیحات کے مطابق تھا۔

2) ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف مسلسل امریکی دباؤ
اسرائیل نے دہائیوں تک امریکی حکومت پر یہ دباؤ برقرار رکھا کہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل نہ ہونے دی جائے۔ حتیٰ کہ سفارتی معاہدوں کی مخالفت بھی اسی تناظر میں کی گئی۔ اسرائیل نے JCPOA (ایران نیوکلیئر ڈیل) کی کھل کر مخالفت کی۔ امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے خلاف شدید لابنگ ہوئی۔ بعض ماہرین کے مطابق امریکی مفاد کے برخلاف اسرائیل نے سخت مؤقف پر زور دیا۔ اس مؤقف کے حامی کہتے ہیں کہ اسرائیل نے ایران کو جوہری خطرہ بنا کر امریکی پالیسی کو زیادہ تصادمی رخ دیا۔

3) اسرائیلی قیادت کا براہِ راست امریکی پالیسی پر اثر
اس نظریے کے حق میں ایک اہم دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اسرائیلی رہنماؤں نے براہِ راست امریکی عوام، کانگریس اور حکومت کو مخاطب کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف کی حمایت حاصل کی۔ نیتن یاہو نے جس طرح امریکی کانگریس میں خطاب کر کے ایران جوہری معاہدے کی مخالفت کی یہ ایک غیرمعمولی سفارتی واقعہ تھا جس میں ایک اتحادی ملک کے رہنما نے براہِ راست امریکی قانون سازوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی اور اس طرح ایران کے مسئلے پر اسرائیل نے امریکی داخلی سیاسی نظام تک براہِ راست رسائی استعمال کی۔

4) ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ“ (Maximum Pressure) کی پالیسی
کئی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ کی سخت معاشی پابندیاں اور اس کی سفارتی تنہائی کی پالیسی اسرائیلی سیکیورٹی خدشات کے عین مطابق تھی اور یہ سخت پابندیاں ایران کی علاقائی طاقت محدود کرنے کے لیے تھیں۔ اس پالیسی کا اسٹریٹجک فائدہ اسرائیل کو زیادہ اور امریکہ کو نسبتاً کم ملا۔ امریکی مفاد زیادہ تر ’’پابندیوں کے نفاذ کی لاگت‘‘ اٹھانے میں تھا۔ یوں اسرائیل نے ایران کو کمزور کرنے کے لیے امریکی معاشی و سفارتی طاقت استعمال کروائی۔

5) علاقائی جنگی کشیدگی اور امریکی عسکری شمولیت
ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی جس سے اسرائیل کو سیکیورٹی اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہوا۔ امریکی اڈوں، خلیج میں امریکی بحری بیڑوں یا ایران کے خلاف دفاعی نظام کی تعیناتی نے اسرائیل کے لیے بالواسطہ دفاعی ڈھال کا کام انجام دیا۔ ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے امریکہ خطے میں مسلسل متحرک رہا جس سے اسرائیل کو تزویراتی فائدہ ملا۔

6) لابی اور بیانیہ سازی کا عنصر
بعض سیاسی مفکرین کے مطابق امریکہ میں اسرائیل نواز پالیسی نیٹ ورکس نے ایران کے خلاف سخت مؤقف کے لیے مسلسل سیاسی فضا بنائے رکھی۔ ایران کو “عالمی خطرہ” کے طور پر پیش کیا۔ کانگریس میں سخت پابندیوں کے بل پیش کیے۔ میڈیا بیانیے میں ایران کو مرکزی دشمن ظاہر کیا۔ ایران کے معاملے میں اس طرح کا اسرائیلی بیانیہ امریکی داخلی سیاسی عمل پر اثر انداز ہوا۔

7) خطے میں طاقت کے توازن (Balance of Power) کا فائدہ
اس نظریے کے مطابق اسرائیل کا بنیادی اسٹریٹجک مقصد خطے میں ایسا توازن قائم رکھنا تھا جس میں کوئی طاقت (خصوصاً ایران) اس کے مقابلے میں نہ ابھر سکے۔ اسرائیل نے امریکی دباؤ کے ذریعے ایران کی معیشت اور دفاعی طاقت کو کمزور رکھنے کی کوشش کی اور اسرائیل کو علاقائی برتری برقرار رکھنے میں مدد دی۔

8) مستقل خطرے کا بیانیہ 
بعض مفکرین کے مطابق بڑی طاقتیں اکثر اپنے اتحادیوں کے بیانیے سے متاثر ہو جاتی ہیں، خصوصاً جب وہ اتحادی علاقائی سیکیورٹی کے نام پر مستقل خطرے کا بیانیہ پیش کریں۔ اس تناظر میں کہا جاتا ہے کہ ایران کے مسئلے پر اسرائیل نے ایک مستقل سیکیورٹی فریم تیار کیا جس کے اندر امریکی پالیسیاں بنتی رہیں۔ ایران کے معاملے میں اسرائیل نے امریکہ کی سفارتی، معاشی اور عسکری طاقت کو اس انداز میں متحرک رکھا جو بڑی حد تک اسرائیلی سیکیورٹی ترجیحات کے مطابق تھا۔

موجودہ جیوپولیٹیکل بحث میں ایک یہ مؤقف بھی پیش کیا جاتا ہے کہ “امریکہ، ایران کے معاملے میں اسرائیل کے ٹریپ میں آ گیا ہے”۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ خاص طور پر ایران کا جوہری پروگرام، اس کی حزب اللہ، حماس اور دیگر مزاحمتی و مقاومتی قوتوں کی حمایت اسرائیل کو چین نہیں لینے دیتی۔ اسرائیلی قیادت، خصوصاً بنیامین نیتن یاہو مسلسل امریکہ پر دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنایا جائے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس دباؤ نے امریکی پالیسی کو سخت تر بنایا ہے۔

امریکہ میں اسرائیل نواز لابیز (جیسے AIPAC) کا اثر و رسوخ بہت زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مخالف پابندیاں اور جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکی انخلا وغیرہ یہ فیصلے بڑی حد تک اسرائیل کی سکیورٹی تشویشات کے مطابق تھے، نہ کہ صرف امریکی مفاد کے مطابق۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایران جوہری معاہدے سے نکلنا، اسرائیلی مؤقف کے عین مطابق سمجھا جاتا ہے۔

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ امریکہ اور ایران میں مسلسل تناؤ اور براہ راست جنگ کے بغیر کشیدگی برقرار رہنا اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہے۔ یعنی امریکہ اگر مسلسل ایران کو مصروف رکھے، تو اسرائیل کو براہ راست جنگ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یعنی امریکہ لڑے، فائدہ اسرائیل کو۔ اگر امریکہ ایران سے براہ راست ٹکراؤ لے تو جنگ کا اصل بوجھ امریکہ اٹھائے گا، جبکہ اسرائیل کو اس کا سکیورٹی فائدہ ملے گا۔ اسی لئے بعض مبصرین اسے ’’Proxy Strategic Trap‘‘ کہتے ہیں۔

The post امریکی پالیسی اسرائیل نوازی کے دائرے میں appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img