شیعہ نیوز: نام نہاد قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا انتخابی بلاک بڑھتے ہوئے انتخابی چیلنج سے دوچار ہے کیونکہ سابق جنرل عوفر فینٹر کی قیادت میں ایک نئی دائیں بازو کی پارٹی سامنے آئی ہے جس کے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ حکومتی اتحاد کی جماعتوں اور ’لیکود‘ پارٹی کے کچھ ووٹوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے جس سے نیتن یاھو کے لیے حکومت بنانے کے لیے ضروری پارلیمانی اکثریت کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔
’ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ’اسرائیل کے نئے عوام‘ نامی پارٹی کو دائیں بازو کے ووٹوں کے لیے سب سے نمایاں حریفوں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ دائیں بازو کی دوسری چھوٹی جماعتیں اور دھڑے بھی نیتن یاھو کی حامی جماعتوں کے حامیوں کو اپنی طرف راغب کرنے لگے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں سے ایک خطاب کے دوران نیتن یاھو نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ دائیں بازو کی نئی پارٹیوں کو ووٹ نہ دیں ۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ یورپ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، روسی وزارت خارجہ
انہوں نے خبردار کیا کہ ووٹوں کے بکھرنے کی وجہ سے ان میں سے بعض جماعتیں تین اعشاریہ پچیس فیصد کی حدِ نصاب کو عبور کرنے میں ناکام ہو سکتی ہیں جبکہ بعض کے کنیسٹ میں داخل ہونے سے موجودہ دائیں بازو کی پارٹیوں کی نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاھو نے کہا کہ جو ووٹر ایسی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے جو حدِ نصاب عبور نہیں کرتی وہ اپنا ووٹ ضائع کر دیتا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ جو پارٹی اسے عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے وہ اسی خیمے کی دوسری پارٹی کی ایک یا اس سے زیادہ نشستوں کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے دائیں بازو کی نئی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوڑ سے ہٹ جائیں یا موجودہ جماعتوں کے ساتھ انضمام کر لیں۔
عوفر فینٹر نے اسی دن ’اسرائیل کے عوام‘ پارٹی کے قیام کا اعلان کیا اور ایک وسیع دائیں بازو کی حکومت بنانے کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا جس میں زیادہ سے زیادہ صہیونی شراکت دار شامل ہوں۔
فینٹر کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو قابض اسرائیل کے دائیں بازو کے نقشے کو گڈمڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ وہ دائیں بازو کے خیمے سے اپنی واضح وابستگی کا اعلان کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے بنجمن نیتن یاھو کی قیادت پر تنقید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عامتہ الناس موجودہ سیاسی صورت حال کے تسلسل کو قبول نہیں کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ نئی پارٹی نظریاتی طور پر بزلئیل سموٹريچ کی قیادت میں ’مذہبی صیہونیت‘ پارٹی کی براہ راست حریف ہے کیونکہ اس کا انحصار بستیوں کی حامی قوم پرست انتخابی بنیاد پر ہے۔ اس کے برعکس فینٹر کو سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات کے دوران پارٹی کی قیادت سے جڑے سیاسی بوجھ یا حریدیوں کی بھرتی کے معاملے پر اس کے موقف کا سامنا نہیں ہے۔
The post انتخابی سروے نے بنجمن نیتن یاھو کے کیمپ کو پریشان کر دیا، نیا دائیں بازو کے گروپ کی ووٹوں کی تقسیم کی دھمکی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


