تحریر: سید عدیل عباس
گزشتہ دنوں ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جہاں مظاہرین نے مہنگائی کو اس کا سبب قرار دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اندر جس طرح مہنگائی ہوئی ہے ایران اب بھی اس حوالے سے ایک سستا ملک ہے، جس میں بجلی بالکل مفت اور تقریباً دو ڈالر میں 60 لیٹر پٹرول ملتا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیاء بھی دنیا کے مقابل بہت سستی ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران کو ہمیشہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور عراق سے مسلسل کئی سالوں تک جنگ کا بھی سامنا رہا، اس کے بعد مختلف مواقع پر سامراجی قوتوں نے ہمیشہ اپنے مزموم مقاصد پورے کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ حال ہی میں اسرائیل کا ایران پر حملہ تہران کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوشش ہے۔ ایسی صورتحال میں بھی عوام کا پرامن طور پر سڑکوں پر نکلنا کوئی غیر معمولی نہیں تھا، تاہم درحقیقت یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔
بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ایران میں ہنگامے ہوئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی کیوں ہوئے اور پس پردہ محرکات کیا ہیں؟ ان سوالوں کا جواب ضروری ہے اور اس معاملے کا فی الفور جائزہ بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کیا واقعاً یہ ہنگامے مہنگائی کے خلاف تھے۔؟ اگر ایسا ہے تو حکومت نے فوری طور پر اس کا ادراک کیا اور ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا لہذا یہ ہنگامے ختم ہو جانے چاہیے تھے، اور ان کو پرتشدد بنانے کی ضرورت نہ تھی لہذا یہ بات صاف سمجھ آ رہی ہے کہ استعماری قوتوں اور ان کے اعلیٰ کاروں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ایرانی حکومت کو گرانے کی بات کی اور یقیناً کچھ لوگوں کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے، ورنہ مساجد اور مزارات کو جلانا اور نقصان پہنچانا کسی صورت مہنگائی سے تعلق نہیں رکھتا۔
جب امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ہاتھوں گذشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اس بار اپنا انداز بدلا اور ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بغاوت کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایرانی قوم مذہبی وابستگی کیساتھ ساتھ شدید محب وطن ہے، وہ کسی صورت ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، چاہے وہ مذہبی طبقہ ہو یا لبرل۔ لہذا جیسے ہی انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں اسرائیل اور امریکہ کے آلہ کار بن رہے ہیں تو وہ فوری طور پر ان معاملات کو ختم کردیں گے اور ملک کے امن کو بحال کریں گے، لہذا جہاں تک بات رجیم چینج کی ہے تو یہ استعماری خواہش گذشتہ روز حکومتی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنی موت آپ ہی مر گئی ہے۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ ایران اور انقلاب اسلامی کیخلاف رچی گئی اس سازش کو تقویت دینے میں امریکہ، صیہونی اور مغربی میڈیا کیساتھ ساتھ پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ نے بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور منفی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے مسلم امہ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر ایرانی قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عظیم ایرانی قوم نے آج ایک تاریخی دن رقم کیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی عظیم ریلیوں نے غیرملکی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ دشمن قوتیں ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اندرونِ ملک کرائے کے ایجنٹوں کو استعمال کرنا چاہتی تھیں، تاہم ایرانی عوام نے ان سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔
The post ایران میں استعمار کو شکست appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


