شیعہ نیوز: موساد کے ایک سابق اعلی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کو فوجی جنگ کے ذریعے شکست دینا ممکن نہیں، اس لیے امریکہ اور اسرائیل ایران پر شدید اقتصادی دباؤ بڑھانے کو واحد مؤثر راستہ سمجھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موساد کے سابق اعلی اہلکار عودی لوی نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانیوں کو فوجی جنگ کے ذریعے شکست دینا ناممکن ہے۔
لوی نے کہا کہ ایران کو شکست دینے کے مقصد کے حصول کا واحد راستہ اس پر انتہائی شدید اور گھٹن پیدا کرنے والا اقتصادی دباؤ مسلط کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے بحران کا ذمہ دار امریکہ، ایران پر الزامات بے بنیاد ہیں، ایرانی سفیر
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل آج ایران کی اقتصادی صورت حال سے متعلق گزشتہ دس سال کی غفلت کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے اہم اور حساس اسٹریٹجک معلومات کو نظر انداز کیا، جبکہ تہران نے 2015ء سے ایک وسیع مالیاتی ڈھانچہ قائم کر لیا ہے۔
موساد کے سابق عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ وہ ایک جامع فوجی مہم شروع نہیں کرسکتا، کیونکہ اسے یورپی ممالک کا مکمل تعاون حاصل نہیں، اسرائیل کی جانب سے مطلوبہ انٹیلی جنس معلومات کی کمی ہے، خلیج فارس کے ممالک بھی مکمل طور پر اس کے ساتھ نہیں ہیں اور روس کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات بھی واشنگٹن کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
لوی کے مطابق امریکہ اس صورت حال میں اقتصادی محاذ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ ایران کے مالیاتی اور لاجسٹک ڈھانچے کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ شاید تہران کو اپنے مالی وسائل پیچیدہ اور دشوار منتقلی کے عمل پر خرچ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
سابق موساد عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ڈیجیٹل کرنسیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ان ورچوئل کرنسیوں کی نگرانی اور ان پر کنٹرول اب بھی کمزور ہے۔
The post ایران کو فوجی شکست دینا ناممکن، اقتصادی دباؤ واحد حل ہے، سابق موساد افسر appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


