شیعہ نیوز: امام جمعہ تہران نے ایران کے قومی مفادات کو مذاکرات کی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری عزت، حکمت اور مصلحت پر مبنی ہونی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تہران حجت الاسلام سیدمحمدحسن ابوترابیفرد نے نمازجمعہ کے خطبے میں کہا ہے کہ اسلامی انقلاب نے ایران کے خارجہ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کی راہ ہموار کی اور آج ملکی سفارت کاری کو عزت، حکمت اور مصلحت کے اصولوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سیاسی جغرافیے میں طاقت ہی اقوام کا مقام متعین کرتی ہے۔
اگر ایران بارہ روزہ جنگ میں کامیاب نہ ہوتا تو امریکا باقاعدہ مذاکرات کی درخواست نہ دیتا اور نہ ہی ایران کو مذاکرات کے وقت، موضوع اور طریقۂ کار کے تعین کا اختیار حاصل ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں : الزامات ثبوت کے ساتھ پیش کریں، عراقچی کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب
انہوں نے مصلحت کو قومی مفادات کے تحفظ سے تعبیر کرتے ہوئے زور دیا کہ مذاکراتی ٹیم کے لیے عوامی مفادات ریڈ لائن ہیں۔
ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے اور جوہری حقوق کے دفاع کے لیے عزت اور شجاعت کے ساتھ پیش قدمی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں۔ تاریخی تجربات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
امام جمعہ تہران نے واضح کیا کہ حالیہ مذاکرات قومی مفادات کے حصول کے وسیع تر عمل کا حصہ ہیں اور ایران کی خارجہ پالیسی صرف جوہری مذاکرات تک محدود نہیں۔
اقتصادی، انتظامی اور قانون سازی کے شعبوں میں بھی انسانی سرمائے اور ماہرین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے ایران کی دفاعی قوت کو نمایاں کیا اور امریکہ و صہیونی حکام کو یہ پیغام دیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
The post ایران کی سفارت کاری عزت، حکمت اور مصلحت پر مبنی ہونی چاہیے، امام جمعہ تہران appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


