شیعہ نیوز: امریکی جریدے فارن پالیسی نے لکھا ہے کہ ایرانی حکام کے پاس تیل کی فروخت اور ذخیرہ کرنے کے انتظام کا بھرپور تجربہ اور صلاحیت موجود ہے۔
فارن پالیسی نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ بعنوان “ایران ابھی تک پیچھے کیوں نہیں ہٹ رہا؟” میں وضاحت کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران کی تیل برآمدات پر بحری ناکہ بندی نافذ کر کے تہران کو تیل کے کنویں بند کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا جا سکے۔ تاہم، ایران اس طرح کے دباؤ کا پہلے بھی تجربہ رکھتا ہے اور اب تک پسپائی اختیار کرنے پر آمادہ نہیں۔
فارن پالیسی کے مطابق، تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والی امریکی ناکہ بندی نے ایران کی تیل برآمدات کو تین چوتھائی تک کم کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران جلد ہی خام تیل ذخیرہ کرنے کی اپنی گنجائش کھو دے گا اور اسے تیل کے میدانوں میں پیداوار روکنا پڑے گی۔ اس سے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے اور معیشت پر بھاری دباؤ پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اس خطرے سے آگاہ ہے اور اضافی تیل ذخیرہ کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہا ہے، جن میں پرانے اور بوسیدہ ذخیرہ ٹینکوں کا استعمال، ناکارہ ہو چکے آئل ٹینکروں کو دوبارہ فعال کرنا، اور جزیرہ خارک کی محدود ذخیرہ گنجائش سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ معطل کرنے کے لیے یورپی اراکین پارلیمنٹ کا احتجاج
تاہم، فارن پالیسی نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا کہ ایران ماضی میں بھی براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ادوار میں سخت ترین امریکی پابندیوں کا سامنا کر چکا ہے اور کسی بھی موقع پر اس کے تیل کے میدانوں کو مستقل نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے علاوہ ایران اب بھی متبادل راستوں کے ذریعے محدود مقدار میں تیل برآمد کرنے میں کامیاب ہے۔
یہ جریدہ مزید لکھتا ہے کہ ایران نے توانائی کی فروخت اور ترسیل کے لیے پیچیدہ اور پھیلے ہوئے نیٹ ورکس قائم کر رکھے ہیں، جن کا سراغ لگانا اور انہیں روکنا ٹرمپ ٹیم کے لیے عملاً ناممکن ہے۔
گریگوری برو، جو یوریشیا گروپ میں ایران اور توانائی کے سینئر تجزیہ کار ہیں، نے کہا کہ کیا ایران اس مقام کے قریب پہنچ چکا ہے جہاں اسے پیداوار روکنی پڑے؟ نہیں؛ آئل ٹینکر اب بھی جزیرہ خارک تک آ جا رہے ہیں اور ملک کے پاس خشکی پر بھی کچھ ذخیرہ گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے بھی پرانے ٹینکروں کو ذخیرہ کے لیے استعمال کر چکا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ناکہ بندی کے اثرات کے لیے تیار ہے، لیکن ابھی دباؤ مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا اور برآمدات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق نیشنل ایرانی آئل کمپنی اس سے پہلے دو بار ایسی صورت حال کا سامنا کر چکی ہے اور کنویں بند کرنے کے انتظام کا تجربہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “وہی تیل کے میدان جو پہلے بند کیے گئے تھے، دوبارہ ہدف بنیں گے اور وہی تجربہ کار منتظمین موجود ہیں جو جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔”
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک اہم عنصر امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی بھی ہے، جو کئی ماہ سے جاری ہے اور اس کا حجم ایران کی ممکنہ کمی سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر نے مجموعی طور پر 11 ملین بیرل یومیہ سے زائد پیداوار کم کی ہے۔ مزید برآں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جو امریکی خام تیل کے لیے 100 ڈالر سے اور عالمی معیار کے لیے 111 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے (اور اس خبر کی تیاری کے وقت 122 ڈالر سے بھی اوپر جا چکا تھا) ایران کے معاشی نقصانات کے ایک حصے کی تلافی کر رہا ہے۔
فارن پالیسی نے آخر میں لکھا کہ ٹرمپ اس معاشی حکمت عملی کے ذریعے بغیر کسی بڑے فوجی تصادم کے ایران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، تاہم ایران کا پابندیوں کو برداشت کرنے کا تاریخی تجربہ، محدود برآمدات کا تسلسل اور عالمی قیمتوں میں اضافہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن کی وجہ سے ایران اب تک جھکنے کو تیار نہیں۔
The post ایران کے پاس تیل کی فروخت اور ذخیرہ کرنے کا بھرپور انتظام اور تجربہ موجود ہے، فارن پالیسی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


