شیعہ نیوز: گرین پارٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز نے اپنی سالانہ کانگریس میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں صہیونیت کے ساتھ نسل پرستی کی دیگر تمام شکلوں کی طرح نمٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کی گرین پارٹی نے برائٹن میں ہونے والی اپنی سالانہ کانگریس کے دوران ایک قرارداد منظور کی، جس میں صہیونیت کو نسل پرستی کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد کے حق میں 1022 ووٹ جبکہ مخالفت میں 813 ووٹ ڈالے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف نئی جنگ کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، جنرل عبداللّہی
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صہیونیت کے ساتھ نسل پرستی کی کسی بھی دوسری شکل کی طرح برتاؤ کیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صہیونیت دوسروں پر غلبے کی بنیاد پر ایک نسلی گروہ کو امتیاز اور ترجیح فراہم کرتی ہے۔
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا ہدف صہیونیت کی سیاسی نظریے اور عملی سرگرمیاں ہیں، نہ کہ ان افراد کا مذہبی یا نسلی پس منظر جو خود کو صہیونی سمجھتے ہیں۔
قرارداد کے متن کے مطابق، صہیونیت کے ساتھ نسل پرستی کی دیگر تمام شکلوں کی طرح نمٹا جائے گا اور اس فیصلے کو گرین پارٹی کی نسل پرستی مخالف پالیسیوں کے ورکنگ گروپ کے ذریعے معمول کے طریقہ کار کے مطابق نافذ کیا جائے گا۔
گرین پارٹی نے اس کے ساتھ ساتھ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں تمام افراد کے لیے مساوی حقوق کی ضمانت ہو۔
The post برطانوی گرین پارٹی کا صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینے اور فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


