شیعہ نیوز: بھارتی ذرائع ابلاغ نے 12 اور 13 ستمبر کو دہلی میں مجوزہ برکس سربراہی اجلاس میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، روس کے صدر ولادیمیرپوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ کی شرکت کو بہت اہم قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو برکس سربراہی اجلاس ایسی حالت میں ہونے جارہا ہے کہ تنظیم کے اراکین، اقتصادی، سیاسی اور بین الاقوامی امور میں باہمی تعاون کی تقویت اور عالمی معاملات میں کرداربڑھائے جانے کے خواہاں ہیں۔
بھارت کے این ڈی ٹی وی نے اپنی سائٹ پر لکھا ہے کہ 12″ اور 13 ستمبر کو دہلی میں برکس سربراہی اجلاس ایسی حالت میں ہورہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور مشرق وسطیٰ کے حالات اس اجلاس اور اس کے اختتامی بیان پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں : جبری نقل مکانی اور اسرائیل کا الحاق بیانات سے نفاذ کی طرف منتقل ہو رہا ہے، گارڈین
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان بھی ان عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جن کی متوقع شرکت توجہ کا مرکز ہے ۔
اکنامک ٹائمز نے اس سے پہلے رپورٹ دی تھی ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور روس کے صدر ولادی میر پوتن ان اہم سربراہان مملکت میں شامل ہیں جو اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ولادیمیر پوتن کی شرکت کے اعلان کے ساتھ ہی کریملن نے برکس کے اراکین کے درمیان اقتصادی تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
روسی ایوان صدر، کریملن ہاؤس کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے 8 ستمبر کو ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ روس عالمی معاملات میں، ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں سے استفادہ کے حق میں ہے لیکن اس کا مطلب ڈالر کو بالکل حذف کردینا نہیں ہے۔
انھوں نے اسی کے ساتھ کہا کہ ماسکو، ادائگیوں کے لئے مختلف قابل قبول روشوں کی حمایت کرتا ہے۔
کریملن ہاؤس کے ترجمان کی ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ برکس کے اراکین کے درمیان تجارت میں ادائگیوں کے لئے مالیاتی سسٹم تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہوسکتا ہے۔
اسی کے ساتھ رائٹرز نے رپورٹ دی ہے کہ روس اور ہندوستان نے گزشتہ برسوں کے دوران، دوجانبہ لین دین میں روبل اور روپیہ میں ادائگی کو توسیع دے چکے ہیں اور ان کے درمیان دو طرفہ تجارت کا بڑا حصہ دونوں ملکوں کی قومی کرنسیوں میں انجام پاتا ہے۔
برکس کے دہلی سربراہی اجلاس میں صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی شرکت ، تہران کے لئے دو لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے، ایک برکس کی سیاسی اور اقتصادی مشاورتوں میں شرکت ہے اور دوسرے اس اجلاس سے ہندوستان اور روس کے ساتھ روابط کے فروغ میں استفادہ ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نگاہ سے یہ سربراہی اجلاس، جنوبی دنیا کے ملکوں کے درمیان اور عالمی حکمرانی کے ڈھانچے میں نئی دہلی کا کردار بڑھا سکتا ہے۔ چنانچہ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ ہندوستان برکس کی صدارت سے نئی اقتصادی طاقتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کا مسئلہ پیش کرنے میں استفادہ کرنا چاہتاہے۔
The post برکس کا دہلی سربراہی اجلاس، ایران نیا عالمی نظام تشکیل دینے والی طاقتوں کی صف میں شامل appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


