spot_img

ذات صلة

جمع

جولانی کا اچانک سعودی عرب کا دورہ؛ کیا شامی جنگجو یمن پہنچا دیے گئے؟

شیعہ نیوز: شامی حکومت کے سربراہ الجولانی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جبکہ یمنی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ریاض کی مدد سے سینکڑوں شامی جنگجو یمن منتقل کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پانچویں دورے میں اچانک سعودی عرب کا رخ کیا۔

جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

شامی سرکاری ذرائع نے صرف اتنا بتایا کہ الشرع وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ہمراہ سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے۔

جہاں مکہ کے گورنر فیصل بن بندر نے ان کا استقبال کیا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ریاض کے گورنر فیصل بن عبدالعزیز سمیت بعض اعلیٰ حکام نے الشرع کو سعودی عرب سے روانگی کے وقت کنگ خالد ایئرپورٹ پر رخصت کیا۔

سعودی سرکاری کے مطابق ملاقات میں سعودی عرب اور شام کے درمیان تعلقات کے امکانات۔

تعاون کے شعبوں اور مختلف میدانوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستحکم تعلقات ایران کی ترجیحات میں شامل ہیں، عراقچی

اس اچانک دورے کا ایک قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ احمد الشرع نے سفر کے دوران سعودی ایئرلائنز  سے تعلق رکھنے والے طیارے کا استعمال کیا۔

لبنانی جریدے الاخبار نے لکھا ہے کہ الشرع کے اچانک دورہ سعودی عرب نے یمن کی جنگ میں ان کے ممکنہ کردار اور ریاض کی جانب سے انہیں کسی ذمہ داری سونپے جانے کے بارے میں سوالات پیدا کردیئے ہیں۔

اس سے قبل متعدد رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ دمشق نے سعودی عرب کی جانب سے شامی جنگجوؤں کو منظم کرکے یمن کے محاذوں پر بھیجنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

رپورٹ کے مطابق شام نے اس کی وجہ اپنی فوج کی ازسرنو تشکیل میں مصروفیت اور کسی نئی جنگ میں شامل نہ ہونے کی خواہش کو قرار دیا تھا۔

اگرچہ شام اور سعودی عرب کی حکومتوں نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم شامی وزارت دفاع نے یمن کے لیے کسی بھی جنگجو کو بھیجے جانے کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب صنعاء میں موجود انٹیلی جنس ذرائع نے الاخبار سے گفتگو میں دعوی کیا ہے کہ انصار اللہ کو ایسی معلومات حاصل ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے ترکی کی مدد سے سینکڑوں شدت پسند عناصر کو شام سے یمن منتقل کیا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خود ساختہ شامی حکومت کو شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت کئی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔

سعودی عرب نے الشرع حکومت کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہنگامی امداد سے بتدریج طویل مدتی سرمایہ کاری کی جانب بڑھنے کی کوشش کی ہے۔

اسی سلسلے میں سعودی عرب اور شام کے درمیان توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، صنعت، بنیادی ڈھانچے اور رئیل اسٹیٹ سمیت مختلف شعبوں میں 47 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

جن کی مجموعی مالیت تقریباً 24 ارب سعودی ریال، یعنی 6.4 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

The post جولانی کا اچانک سعودی عرب کا دورہ؛ کیا شامی جنگجو یمن پہنچا دیے گئے؟ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img