شیعہ نیوز: لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے موجودہ حالات کی ذمہ داری حزب اللہ پر ڈالنے کی کوششوں کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے ۔
نبیہ بری نے اس طرح کے تمام بیانات کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ مزاحمت جنگ بندی کی مکمل پابندی کرے گی، لیکن اصل مسئلہ صیہونی حکومت کو حملے بند کرنے اور لبنان کے رہائشی علاقوں کی تباہی کو روکنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی طریقہ کار کا فقدان ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے حزب اللہ کو قصوروار ٹھہرانے اور صیہونی حکومت کی جارحیت کو صحیح ثابت کرنے کی امریکی کوششوں کے ردعمل میں، جنگ بندی کے لیے مزاحمت کی مکمل پابندی کی ضمانت دینے کی اپنی توانائی پر زور دیا۔
نبیہ بری نے کہا کہ میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے مزاحمت کی جانب سے مکمل، جامع اور فوری پابندی کی ضمانت دیتا ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ صیہونی حکومت کو زمینی، بحری اور فضائی جارحیت کے ساتھ ساتھ لبنان کے گاؤں اور گھروں کی تباہی روکنے پر کون مجبور کرے گا؟”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب حالیہ دنوں میں کچھ امریکی عہدیداروں نے لبنان میں جاری تنازعہ کی ذمہ داری حزب اللہ پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے صیہونی حکومت کے مسلسل حملوں اور جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کی جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا اور لبنانی محاذ پر کشیدگی کے تسلسل کے اصل عامل کی طرف توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان کے صدر جوزف عون سے ٹیلی فونی گفتگو میں لبنان کے بحران کا ذمہ دار حزب اللہ کو قرار دیا تھا ۔
The post حزب اللہ کو قصوروار ٹھہرانے کی کوششوں نہ کی جائے، نبیہ بری appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


