spot_img

ذات صلة

جمع

نیویارک پوسٹ: امریکہ کے ہتھیار ختم ہو رہے ہیں

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے CATO...

مغربی ایشیا میں امریکی ریڈار سسٹموں اور ایئرڈیفنس کے لیے رات بڑی خوفناک گزری

شیعہ نیوز: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا...

ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لئے روس کی آمادگی

شیعہ نیوز: روس نے ایران اور امریکہ کے اختلاف...

حماس کی نئی قیادت: انتخابی مرحلے کا امتحان اور تنظیمی استقامت کے پیغامات

شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی طرف سے...

حماس کی نئی قیادت: انتخابی مرحلے کا امتحان اور تنظیمی استقامت کے پیغامات

شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی طرف سے ڈاکٹر خليل الحيہ کو تحریک کا نیا سربراہ منتخب کیے جانے کا اعلان اس جاری جنگ کے پس منظر میں ایک انتہائی نمایاں اور تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ منتقلی سابق وزراء اور قائدین یعنی شہید اسماعیل ہنیہ اور شہید یحییٰ سنوار رحہما اللہ کی شہادت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ یہ تقرری ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب تحریک کو بے مثال سیاسی، عسکری اور تنظیمی چیلنجز کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیادت کی یہ منتقلی محض ایک داخلی تنظیمی عمل تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی واضح غماز ہے کہ تحریک انتہائی پیچیدہ مرحلے کو سنبھالنے اور اس جنگ کے دوران پہنچنے والے زخموں کے باوجود اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

خلیل الحیہ کی قیادت میں ایک نیا مرحلہ

سیاسی تجزیہ کار وسام عفیفہ کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کا انتخاب صرف اس خالی ہونے والے منصب کو پُر کرنے تک محدود نہیں ہے جو یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد خالی ہوا تھا، بلکہ یہ اس امر کا عملی امتحان ہے کہ تحریک اپنے نمایاں ترین سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو کھونے کے بعد اپنی قیادت کو از سر نو منظم کرنے کی کتنی طاقت رکھتی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے اشارہ کیا کہ الحیہ جنہوں نے گذشتہ عرصے کے دوران مذاکرات میں تحریک کے وفد کی قیادت کی ہے، ایک ایسے وقت میں اس ذمہ داری کو سنبھال رہے ہیں جب حماس اپنے قیام کے بعد سے لے کر اب تک کے انتہائی پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے، جہاں جنگ مسلسل جاری ہے، سکیورٹی اور سیاسی دباؤ عروج پر ہے اور قیادت کو لگاتار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک نے اپنے طویل تنظیمی تجربے کی بدولت اپنی قیادت کے نقصان کے اثرات کو جذب کرنے اور ایک حد تک استحکام کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، مگر اب اصل چیلنج محض نئے سربراہ کے انتخاب تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا دائرہ کار فیصلہ سازی کے مراکز کے درمیان تعلقات کو از سر نو منظم کرنے، عسکری قیادت کے نقصانات کی تلافی کرنے، اور مختلف محاذوں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کو دوبارہ استوار کرنے تک پھیل چکا ہے۔

نئی قیادت کو درپیش پیچیدہ فائلز

عفیفہ کے مطابق نئی قیادت کو باہم پیوست فائلوں کے ایک ایسے انبار کا سامنا کرنا ہوگا جن میں سرفہرست جنگ کا خاتمہ، مذاکرات کا انتظام، غزہ کی پٹی میں ’اگلے روز‘ کے انتظامات سے نمٹنا، دیگر فلسطینی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنا اور ان علاقائی و بین الاقوامی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنا ہے جو ثالثوں اور اتحادیوں کے ساتھ تحریک کے مؤقف اور تعلقات کو متاثر کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لئے روس کی آمادگی

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سے بڑا چیلنج اجتماعی قیادت کے اصول اور فیصلے میں تیزی کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے، تاکہ تحریک یہ یقینی بنا سکے کہ اس کے ادارے فیصلہ سازی میں بھرپور حصہ لیں، اور مشاورت کے متعدد مراکز کسی بھی فیصلہ کن لمحے میں فوری ردعمل کو سست نہ کر دیں۔

جنگ کے ماحول میں تنظیمی لچک

دوسری جانب سکیورٹی اور عسکری امور کے محقق رامی أبو زبيدہ کا ماننا ہے کہ جنگ کے پُراشوب حالات کے دوران کسی بھی تنظیم کی طرف سے اپنی قیادت کو دوبارہ پیدا کرنے میں کامیابی اس کے ادارہ جاتی استحکام کی ایک اہم علامت ہے، بالخصوص جب وہ تنظیم براہ راست ایسے حملوں کا ہدف ہو جو اس کی قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہوں۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تحریک کے داخلی فیصلے کا نظام مسلسل فعال ہے اور غیر معمولی حالات کے باوجود قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیمی مطالعات ایسے ماحول میں قیادت کے منصبوں کی مسلسل منتقلی کو ادارہ جاتی لچک اور اعلیٰ خطرے کے تنازعات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کا پختہ ثبوت قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیادت کی یہ منتقلی یہ پیغام دیتی ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے سے لازمی طور پر کوئی خلاء یا فیصلہ سازی میں تعطل پیدا نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسے ادارے اور میکانزم موجود ہوں جو نعم البدل کا انتخاب کرنے اور تنظیم کے انتظام کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

چیلنجز اور استقامت کے پیغامات کے مابین

دونوں تجزیے اس بات پر متفق ہیں کہ خلیل الحیہ کا انتخاب تحریک کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، البتہ ان میں سے ہر ایک نے اس واقعے کے ایک مختلف پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔

جہاں سیاسی تجزیہ جنگ اور سیاسی و تنظیمی فائلوں کو سنبھالنے میں نئی قیادت کے منتظر چیلنجز کے حجم پر توجہ مرکوز کرتا ہے، وہیں سیکیورٹی تجزیہ جنگ کے دوران قیادت کی منتقلی کے عمل کو کامیابی سے سر انجام دینے کے اس اشارے کو اجاگر کرتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک کا تنظیمی ڈھانچہ بدستور فعال ہے اور اپنے فیصلوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

مجموعی طور پر مبصرین کا یہی ماننا ہے کہ آنے والا دور نئی قیادت کے لیے ایک حقیقی امتحان ثابت ہوگا، نہ صرف موجودہ محاذ آرائی کو سنبھالنے کے لحاظ سے، بلکہ تحریک کے استحکام کو برقرار رکھنے اور فلسطینی اور علاقائی میدان میں رونما ہونے والی سیاسی اور سیکیورٹی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے اعتبار سے بھی۔

The post حماس کی نئی قیادت: انتخابی مرحلے کا امتحان اور تنظیمی استقامت کے پیغامات appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img