خطبہ اول
حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید باقر الحسینی نے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور حمد و ثنائے الٰہی سے خطبے کا آغاز کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آلِ محمد علیہم السلام پر درود و سلام پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے نہایت درد مندانہ انداز میں حاضرینِ جمعہ سے التماسِ دعا کی اور بالخصوص بیمار مرد و خواتین کی شفایابی، اولاد کی تمنا رکھنے والوں کی مراد پوری ہونے، حاضرین کی نیک حاجات کی قبولیت اور تمام مومنین و مومنات کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے خصوصی دعا کروائی، جس کے بعد مجمع نے محمد و آلِ محمد پر پرخلوص صلوات پیش کی۔
اس کے بعد علامہ باقر الحسینی نے خود کو اور تمام حاضرین کو تقویٰ الٰہی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح فرد اور ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات اچھے کاموں کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ شرعی فریضہ بن جاتا ہے، کیونکہ ایک مومن صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اردگرد کے معاشرے کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔
انہوں نے حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: “المؤمن مرآة المؤمن” یعنی مومن، مومن کا آئینہ ہے۔ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسے آئینہ انسان کو اس کی خامیاں دکھاتا ہے تاکہ وہ خود کو سنوار سکے، اسی طرح ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت اپنے بھائی کی اصلاح کرے، نہ کہ اسے رسوا کرے یا کمتر سمجھے۔
علامہ آغا سید باقر الحسینی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اصلاح کا عمل یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے، ہمیں دوسروں کی اصلاح کی فکر کے ساتھ ساتھ اپنی باطنی اصلاح پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ اگر ہم صرف دوسروں کو نصیحت کرتے رہیں اور خود احتسابی سے غافل رہیں تو یہ طرزِ عمل تقویٰ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ خطبے کے اس حصے میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا شعور، اخلاص اور اخلاق عطا فرمائے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے باعثِ اصلاح بنیں، نہ کہ نفرت اور تفرقے کا سبب اور ہمیں قول و عمل میں ہم آہنگی نصیب فرمائے تاکہ ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ بن سکے۔
حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید باقر الحسینی نے 13 رجب المرجب، ولادتِ باسعادت مولائے کائنات امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے موقع پر منعقد ہونے والے عظیم الشان جشن پر گفتگو کرتے ہوئے مرکز اور علمائے کرام کی طرف سے اہلیانِ بلتستان، خصوصاً اہلیانِ سکردو کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس والہانہ عقیدت، نظم و ضبط اور روحانی جوش و خروش کے ساتھ یہ جشن منایا گیا، وہ قابلِ تحسین ہے اور بلتستان کی دینی بصیرت کا مظہر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آئندہ بھی ائمۂ اطہار علیہم السلام کی ولادت اور ایامِ مسرت اسی جذبۂ ایمان اور شان و شوکت کے ساتھ منانے کی توفیق عطا فرمائے۔
علامہ باقر الحسینی نے کہا کہ سکردو پورے گلگت بلتستان کا دل ہے، یہاں ہونے والی دینی سرگرمیوں کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں، اسی لیے 15 شعبان المعظم، جشنِ منجیٔ عالمِ بشریت حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے یومِ ولادت کو بھی پورے جوش، شعور اور نظم کے ساتھ شایانِ شان طریقے سے منایا جائے گا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ بلتستان آج بھی اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی گہری وابستگی پر فخر کرتا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے انفاق فی سبیل اللہ کے موضوع پر نہایت اثر انگیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان دنیا میں جن لوگوں کو معمولی، کمزور یا کمتر سمجھتا ہے، قیامت کے دن وہی لوگ اللہ کے ہاں بلند درجات اور مختلف اعزازات کے حامل ہوں گے کیونکہ انہوں نے خاموشی سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایثار کیا اور دنیا کی نمود و نمائش سے دور رہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن بہت سے لوگ حسرت اور رشک کے عالم میں ہوں گے جب وہ دیکھیں گے کہ جنہیں وہ دنیا میں نظر انداز کرتے تھے، آج وہ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار ہو رہے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے قرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کی۔ وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (سورۃ الحدید: 10)۔ علامہ آغا سید باقر الحسینی نے آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل معیار مال، حیثیت یا ظاہری مقام نہیں بلکہ وقت پر، اخلاص کے ساتھ اور خاموشی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے، یہی انفاق انسان کے درجات کو بلند کرتا ہے اور اسے قیامت کے دن سربلند کرتا ہے۔
علامہ آغا سید باقر الحسینی نے نہایت درد مندانہ لہجے میں خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: اے مؤمنو جب تک زندگی کی مہلت باقی ہے، کمزوروں، محتاجوں اور محروموں کا سہارا بن جاؤ، خمس ادا کرو، امام بارگاہوں، مساجد، مدارس، یتیموں اور ضرورت مندوں کے لیے خدا کی راہ میں انفاق کرو، اس سے پہلے کہ موت اپنے شکنجے میں جکڑ لے۔ انسان کو چاہیے کہ تھوڑا ہی سہی، مگر خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرے کیونکہ اللہ کے نزدیک مقدار نہیں بلکہ نیت اور وقت کی قدر ہے۔
اس موقع پر انہوں نے قرآنِ مجید کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ کی تلاوت کی۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ (سورۃ التغابن: 16)۔ انہوں نے فرمایا کہ بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرو، قیامت کے دن حسرت اور رشک میں مبتلا ہونے سے پہلے دنیا ہی میں آخرت کا سامان جمع کر لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی قیامت کے دن دوسروں کے درجات دیکھ کر صرف حسرت کرنے والوں میں کھڑے ہوں۔ اسی لیے اللہ کی راہ میں آج انفاق کرو، کیونکہ کل کا پچھتاوا کسی کام نہیں آئے گا۔
اسی تسلسل میں انہوں نے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کی جس میں قیامت کے دن کی حسرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ۔ (سورۃ المنافقون: 10)۔ علامہ باقر الحسینی نے فرمایا کہ اس وقت انسان کہے گا: کاش مجھے تھوڑی سی مہلت اور مل جاتی، میں اپنا مال خدا کی بارگاہ میں دے دیتا، مگر اس وقت وہ ندامت کے سوا کچھ نہ کر سکے گا۔ وہ کہے گا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میرے پاس اقتدار تھا، طاقت تھی، مگر میں نے اسے لوگوں کو قید کرنے، کمزوروں کو دبانے اور ظلم کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے اہلِ ثروت اور صاحبانِ اقتدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے مالدارو ہوش میں آ جاؤ، یہ مال ہمیشہ تمہارے ہاتھ میں نہیں رہے گا، یہ اقتدار عارضی ہے، یہ عہدے چند دن کے ہیں، اصل وارث صرف خدا ہے۔ مظلوموں کی حمایت کرو، کیونکہ یہ دنیاوی اقتدار اور وسائل خدا کی طرف سے محض امتحان ہیں، تمہاری تعلیم، تمہاری ٹیکنالوجی اور تمہاری ترقی تمہاری ذاتی کمال نہیں بلکہ خدا کی عطا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی نعمتیں قیامت کے دن تمہارے گلے کا پھندا بن جائیں۔ انہوں نے چند لمحے توقف کے بعد فرمایا: دنیا میں ہوش کے ساتھ جیو، خود کو مالک نہیں بلکہ امانت دار سمجھو، طاقت کو خدمت اور مال کو عبادت بنا دو، ورنہ یہی چیزیں انسان کو غفلت اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں۔
علامہ آغا سید باقر الحسینی نے مزید کہا کہ دنیا میں کمزوروں کی مدد چند دن کی نیکی دکھائی دیتی ہے، مگر خدا قیامت کے دن ایسے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ ہمارے پاس دولت بھی ہے، آسائش بھی، عزت اور شرافت بھی، لیکن اس کے باوجود بیماریاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ انسان بہت سی نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے، کسی کو نمک سے پرہیز ہے، کسی کو شکر سے، کسی کو دوسری غذاؤں سے، تو پھر اس دولت کا فائدہ کیا جو آخرت سنوارنے میں استعمال نہ ہو؟ اگر یہی دولت خدا کی راہ میں خرچ کی جائے، محروموں کو حق دیا جائے، تو یہی مال آخرت کی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص خیرات نہیں دے سکتا تو کم از کم اپنے واجبات تو ادا کرے، زکوٰۃ اور خمس کو درست طریقے سے ادا کیا جائے تو معاشرے سے غربت کم کی جا سکتی ہے، کمزور طبقے کی محرومیاں ختم ہو سکتی ہیں، کیونکہ اسلامی نظامِ معیشت کی بنیاد ہی انفاق، عدل اور احساسِ ذمہ داری پر ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے اور معاشرے کو بھی۔
حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید باقر الحسینی نے امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک گہری اور بصیرت افروز روایت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم واقعی مسلمان ہیں اور اگر ہم اپنے آپ کو مومن سمجھتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام اس حوالے سے ہمیں کیا معیار دیتے ہیں۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں بِقَاءُ الإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ أَنْ يَكُونَ الْمَالُ فِي أَيْدِي مَنْ يَعْرِفُ الْحَقَّ، فَيَضَعَهُ فِي حَقِّهِ، وَهَلَاكُ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ أَنْ يَكُونَ الْمَالُ فِي أَيْدِي مَنْ لَا يَعْرِفُ الْحَقَّ، فَلَا يَضَعُهُ فِي حَقِّهِ (الکافی، شیخ کلینیؒ، ج 5، ص 107)۔
علامہ باقر الحسینی نے روایت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کی بقا اس بات میں ہے کہ دنیا کا مال، وسائل اور طاقت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہوں جو حق شناس ہوں، جو حق کو پہچانتے ہوں، جو جانتے ہوں کہ مال کہاں خرچ کرنا ہے اور کن راستوں میں صرف کرنا ہے، کیونکہ حق شناس افراد مال کو حق کی راہ میں استعمال کرتے ہیں، اسی سے اسلام مضبوط ہوتا ہے اور مسلمین کا وقار باقی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی روایت کے دوسرے حصے میں امام علیہ السلام واضح الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب مال، دولت اور وسائل ایسے افراد کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں جو حق شناس نہیں ہوتے، جنہیں نہ حق کی پہچان ہوتی ہے، نہ امتِ مسلمہ کے درد کا احساس، ایسے لوگوں کے ہاتھ میں جب دولت آتی ہے تو وہ اسلام اور مسلمانوں کی بربادی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
علامہ آغا سید باقر الحسینی نے عصرِ حاضر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج ہماری آنکھیں یہ منظر خود دیکھ رہی ہیں، آج بعض مسلمان ممالک کے پاس تیل ہے، گیس کے بے پناہ ذخائر ہیں، دولت، وسائل اور اسلحہ سب کچھ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ممالک عالمی استعمار، خصوصاً امریکہ، کے ہاتھوں اسیر ہیں اور ہر جگہ مسلمانوں کو کچلا جا رہا ہے، اسلام کو کمزور کرنے اور مٹانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان وسائل کے مالک حق شناس نہیں ہیں، انہیں نہ حق کی فکر ہے اور نہ امتِ مسلمہ کے درد کا احساس۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض عرب بادشاہ اور حکمران صرف اپنے پیٹ بھرنے، اپنی عیاشیوں اور اپنے اقتدار کو طول دینے میں لگے ہوئے ہیں، انہیں نہ فلسطین کے مظلوموں کی فکر ہے، نہ یمن کے معصوم بچوں کا دکھ، نہ امتِ مسلمہ کی عزت و بقا کا احساس، ایسے حق سے دور حکمران اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ جب قیادت اور دولت بے درد ہاتھوں میں چلی جائے تو انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پہلے خطبے کے اختتام پر علامہ آغا سید باقر الحسینی نے بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ دعا کرتے ہوئے کہا: پروردگارا جو مال اور وسائل تو نے ہمارے ہاتھوں میں دیے ہیں، ہمیں پہلے حق کی صحیح پہچان عطا فرما، پھر ہمیں توفیق دے کہ ہم اس مال کو حق کی راہ میں خرچ کریں، مظلوموں کا سہارا بنیں اور اسلام و مسلمین کی خدمت کا ذریعہ بنیں۔
آمین یا ربّ العالمین
خطبۂ دوم
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نائب امامِ جمعہ مرکزی جامع مسجد سکردو بلتستان حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید باقر الحسینی نے خطبۂ دوم کا آغاز چہاردہ معصومین علیہم السلام کے اسمائے گرامی کے ذکر اور ان کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کرتے ہوئے کیا، اور اللہ تعالیٰ سے امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت، بصیرت اور استقامت کی دعا فرمائی۔ خطبۂ دوم میں ملکی و علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تقریباً چالیس دن کے بعد نگران کابینہ کی تشکیل ایک خوش آئند امر ہے اور یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نگران حکومت عوامی توقعات پر پورا اترتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نگران کابینہ کے اراکین گزشتہ پانچ سالہ دورِ اقتدار کے نمائندوں کی طرح محض تنقید سے بچنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
علامہ آغا سید باقر الحسینی نے بلتستان میں بڑھتی ہوئی مہلک بیماریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینسر، ہارٹ اٹیک، قلبی امراض اور بلڈ پریشر تیزی سے وبائی صورت اختیار کر رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری اشیائے خور و نوش اور ادویات کا استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیاء پر کڑی نظر رکھی جائے، انتظامیہ غیر معیاری اشیاء اور جعلی ادویات کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سستی مگر غیر معیاری اشیاء خریدنے سے گریز کریں، چند روپے زیادہ خرچ کر کے معیاری اشیاء خریدیں تاکہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
آغا باقر الحسینی نے شہیدِ راہِ وحدت آغا سید ضیاء الدین رضوی کی اکیسویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید آغا سید ضیاء الدین رضوی کا اصل ہدف گلگت بلتستان میں اتحاد بین المسلمین کا فروغ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں ان کی روح سے عہد کرنا چاہیے کہ ہم فرقہ واریت، نفرت اور تعصب سے بالاتر ہو کر اتحاد و اخوت کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور شہید کے مشن کو زندہ رکھیں گے۔ علامہ آغا سید باقر الحسینی نے بعض میڈیا چینلز کی جانب سے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے خلاف کیے جانے والے من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم آج کے دور کے عباس (ع) اور علی اکبر (ع) کی مانند ہیں، وہ رہبرِ کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے تربیت یافتہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس رہبر نے سخت ترین جنگی حالات میں بھی ایران کو ترک نہیں کیا، اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آج کے دور میں میدانِ حق اور اسلامی انقلاب کا پرچم چھوڑ کر کہیں بھاگ جائیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم رہبرِ معظم کے خلاف چند نجی چینلز کی جانب سے کی جانے والی ہرزہ سرائی اور کردار کشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اسے امتِ مسلمہ کے اتحاد کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیتے ہیں۔
علامہ آغا سید باقر الحسینی نے حکومتِ وقت کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ امریکی مفادات کے تابع بننے سے باز آ جاؤ، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جو اقوام اپنی خودمختاری اور عوامی طاقت کو نظر انداز کر دیتی ہیں، ان کا انجام وینزویلا جیسا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک باوقار، مسلمان اور زندہ قوم ہے، اسی قوم نے پاکستان بنایا ہے اور یہی قوم ہر مشکل گھڑی میں اس ملک کو بچانے کے لیے آگے بڑھی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے ہمیشہ کھڑی رہے گی۔
خطبے کے اختتامی حصے میں علامہ باقر الحسینی نے انجمنِ امامیہ بلتستان کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے جاری امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سکردو سمیت مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی امداد الحمدللہ منظم، شفاف اور مرحلہ وار انداز میں تمام مستحق سیلاب متاثرین تک پہنچائی جا چکی ہے اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک سیلاب زدگان کے لیے 42 لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں، جنہیں باقاعدہ مشاورت اور انصاف کے اصولوں کے تحت متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ مزید امداد بھی جلد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گانچھے، شگر، کھرمنگ اور سکردو کے بعض متاثرہ علاقوں سمیت رگیول کے علاقوں میں بھی امدادی رقوم پہنچائی جا چکی ہیں اور آئندہ مرحلے میں مزید علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔ علامہ آغا سید باقر الحسینی نے واضح کیا کہ یہ تمام امداد مرکز اور انجمنِ امامیہ بلتستان نے عوام کے تعاون سے جمع کی ہے اور انجمنِ امامیہ ہر ایک روپے کی امین ہے، اضافی انتظامی اخراجات انجمن کے ذمہ داران اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، جبکہ عوام کی جانب سے دی گئی امدادی رقم کا ایک ایک روپیہ مستحق سیلاب زدگان تک پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ بھی اسی اعتماد، خلوص اور تعاون کے جذبے کے ساتھ انجمنِ امامیہ بلتستان کا ساتھ دیتے رہیں تاکہ مصیبت زدہ خاندانوں کی بروقت مدد جاری رکھی جا سکے اور اجتماعی ذمہ داری کا یہ سلسلہ مزید مضبوط ہو۔ والسلام
The post رہبر معظم کیخلاف من گھڑت پروپیگنڈہ، امت کے اتحاد کے خلاف سازش appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


