حوزہ/ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئی شراکتیں جنم لے رہی ہیں۔ آئندہ برسوں میں اصل مقابلہ شاید صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارت کاری، اقتصادی طاقت، دفاعی تعاون اور علاقائی اثر و رسوخ کے میدان میں ہوگا۔ جو ریاستیں اس نئی حقیقت کو بہتر انداز میں سمجھیں گی، وہی مستقبل کے مشرقِ وسطیٰ کی سمت متعین کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں گی۔


