شیعہ نیوز: رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے منسلک تیل بردار جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس فیس میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے سعودی عرب کے لیے تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے کی حکمت عملی کو نئی رکاوٹ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے تیل لے جانے والے آئل ٹینکروں کے انشورنس اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بحیرہ احمر میں انشورنس پریمیم میں اضافے نے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستہ قائم کرنے کی حکمت عملی کے سامنے ایک نئی رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 77 وفود کا بائيکاٹ بتا رہا ہے کہ دنیا نیتن یاہو کے بیانیے سے بیوقوف نہیں بنی، غریب آبادی
رائٹرز نے ذرائع، سیٹلائٹ تصاویر اور بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ ینبع کی مرکزی بندرگاہ پر تیل کی لوڈنگ کا عمل تاحال دوبارہ شروع نہیں ہوسکا۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار ذرائع نے بتایا کہ ینبع میں لنگر انداز ہونے والے سعودی عرب سے منسلک آئل ٹینکروں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس فیس بڑھ کر جہاز کی مالیت کے تقریباً 3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ینبع کے جنوب میں واقع سعودی عرب کی بندرگاہوں سے منسلک آئل ٹینکروں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس فیس جہاز کی مالیت کے 7 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
ہائیڈمار میری ٹائم کے سربراہ نے بھی بتایا کہ جو بھی آئل ٹینکر ینبع میں لنگر انداز ہوگا، اس کا سعودی عرب سے تعلق ہوگا اور اس کے نتیجے میں وہ حملے کے خطرے سے دوچار ہوگا۔
ہائیڈمار میری ٹائم کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ان کی کمپنی سعودی عرب کی بندرگاہوں سے گریز کر رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ینبع سے ایک سفر کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس لاگت تقریباً 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ سعودی عرب کی جنوبی بندرگاہوں سے سفر یا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی صورت میں یہ لاگت تقریبا 70 لاکھ ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔
The post سعودی عرب سے منسلک آئل ٹینکروں کے انشورنس اخراجات میں تین گنا اضافہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


