ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہر بازوریہ میں مزاحمتی محاذ کے شہداء کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا کہ جس میں مختلف عوامی طبقات کے ساتھ ساتھ شہداء کے اہلخانہ نے بھی شرکت کی۔ “جنگ اور امن کے فیصلے” سے متعلق موضوعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ فضل اللہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ، حکومت کے ہاتھ میں ہونا چاہیئے لیکن آج لبنان میں جو کچھ دیکھا جا رہا ہے وہ زیادہ تر “ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ” ہے درحالیکہ سفارتکاری کا مطلب “دشمن کے مقابلے میں عقب نشینی” نہیں! انہوں نے لبنان کے خلاف ہمہ گیر جنگ کے بارے بھی بات کی اور زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ محض فوجی نہیں بلکہ سکیورٹی، سیاسی، میڈیا، مالی اور اقتصادی میدانوں میں جنگ بھی ہے.. کہ جس میں رائے عامہ کو دھوکہ دینے اور مشتعل کرنے کی کارروائیاں بھی انجام دی جاتی ہیں، لیکن جن لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لبنانی عوام اب تھک ہار چکے ہیں، وہ واضح طور پر فریب کا شکار ہو گئے۔
لبنانی رکن پارلیمنٹ نے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو سے متعلق حکومت کی بنیادی ذمہ داری پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ، حکومت اور پارلیمنٹ میں تعمیر نو کی مسلسل پیروی کر رہی ہے جبکہ اس مسئلے کو سیاست سے دور رکھتے ہوئے ایک قومی مسئلے کے طور پر آگے بڑھانا چاہیئے، خاص طور پر جنوبی فرنٹ لائن کے دیہاتوں میں۔ پارلیمانی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اصولوں، اتحاد اور عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے اس میدان میں اترے ہیں جبکہ ہر مزاحمت اور ہر حکومت کی اصلی طاقت، اسلحے سے قبل، اس کے عوام میں ہوتی ہے لہذا قومی شراکتداری کے میدان میں کوئی بھی فریق، ہماری پوزیشن کو کمزور نہیں بنا سکتا۔
اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف وسیع دباؤ اور فوجی خطرات کے لاحق کئے جانے کی واحد وجہ؛ اس ملک کی جانب سے فلسطین، اسلامی مزاحمت اور مظلوم اقوام کے ساتھ آ کھڑا ہونا ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے 1979 سے لے کر اب تک، نہ صرف ہر ایک مرحلے پر ہمارا ساتھ دیا ہے بلکہ اپنے لئے کچھ طلب کئے بغیر، اس حمایت کی بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنان، پورے اطمینان کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران، اس کی قیادت اور ایرانی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے!
The post سفارتکاری لبنان کیخلاف جارحیت کو کبھی روک نہیں پائی، حزب اللہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


