شیعہ نیوز: ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے اور رہبر معظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ نئے رہبر انقلاب سے تجدید عہد کیا۔ گلگت بلتستان بھر سے لوگ قافلوں کی شکل میں چہلم کے اجتماع میں شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام میونسپل اسٹیڈیم سکردو میں ’’تجلیلِ شہداء و تجدیدِ عہد رہبرِ معظم و شہدائے رہبری‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا، جو بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع ثابت ہوا۔
یہ اجتماع صبح 9:30 بجے سے سہ پہر 3:00 بجے تک جاری رہا، جس میں بلتستان بھر سے لاکھوں عاشقانِ اہلِ بیت اور رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہای سے عقیدت رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
کھرمنگ، شگر، گانچھے، روندو، گلتری سمیت بلتستان کے دور دراز علاقوں سے بڑے بڑے قافلے سکردو پہنچے۔ استور، ہنزہ، نگر، گلگت سے آغا راحت الحسینی سمیت 40 سے زائد علماء تشریف لائے۔
یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ چھاپہ مار کارروائیاں، متعدد فلسطینی زخمی اور گرفتار
کھرمنگ سے آغا سید علی موسوی، شگر سے سید عباس موسوی جبکہ گانچھے سے مومنین رات گئے روانہ ہوکر اجتماع میں شریک ہوئے۔ اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ سید سفیر حسین اور حافظ مجتبیٰ (مدرسہ حفاظ القرآن) نے حاصل کی۔
نظامت کے فرائض آغا سید قمر عباس حسینی اور شیخ زاہد حسین زاہدی نے انجام دیے، جبکہ محمد حسن اولڈینگ نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم میں نعت پیش کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان نے رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہای اور دیگر شہدائے اسلام کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی شہادت کو امتِ مسلمہ کے لیے بیداری اور استقامت کی علامت قرار دیا۔
نائب امام جمعہ سکردو شیخ جواد حافظی، علامہ آغا سید راحت الحسینی، شیخ غلام حسین واعظی، شیخ حفاظت علی، آغا سید علی موسوی، سید محمد عباس موسوی، شیخ شرافت علی، شیخ ذوالفقار یعسوبی، مولانا اخوند عارف، الواعظ کریم خان، شیخ شرافت ولایتی، علامہ شیخ محمد حسن جعفری سمیت دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں عالمی استعمار، صہیونیت اور اسلام دشمن قوتوں کی مذمت کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور مزاحمت پر زور دیا۔
مقررین نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو ایک نئی روح دی ہے اور یہ شہادت قبلۂ اول بیت المقدس کی آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت دے گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان تمام تر مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہوں اور عالمی استکبار کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہوں۔
اجتماع کے دوران انجمنِ امامیہ بلتستان کے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ خطے کے وسائل، حقوق اور خودمختاری کے حوالے سے بھی واضح مؤقف پیش کیا گیا۔
صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام شرکاء، علمائے کرام، جوانوں، مختلف اضلاع سے آئے ہوئے قافلوں، انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں، میڈیا نمائندگان، تاجران، ڈاکٹروں، رضاکاروں اور ماتمی انجمنوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس عظیم اجتماع کو کامیاب بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے عالمی سطح پر فلسطین اور خطے میں جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد بھی ان کا مشن زندہ ہے اور امتِ مسلمہ ان کے افکار پر متحد ہو کر ظلم کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو مزید بڑے عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ اجتماع کے اختتام پر قراردادیں پیش کی گئیں، جن میں عالمی استکبار کے خلاف مذمت، اتحادِ امت، اور بلتستان کے عوامی حقوق کے تحفظ کے مطالبات شامل تھے۔
The post سکردو، شہید رہبر معظم کے چہلم پر تاریخی اجتماع، عقیدت کا بے مثال اظہار appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


