ہر برس کے آخر میں ہماری یہ روش رہی ہے کہ سال کے اختتام پر سال بھر کی ایک فلم، ایک دقت نظر، گزرے حالات و واقعات، کیا کھویا کیا پایا کے عنوان سے ذہن میں لا کر چشم تصور میں دہراتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے زیادہ رنجیدہ اور دکھ برا لمحہ وہ ہوتا ہے، جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں کہ ہمارا فلاں دوست، فلاں رفیق، فلاں بھائی، فلاں پیارا، فلان جو دل کے قریب تھا، جس سے ایک لمحہ بنا گزارنا مشکل ہوتا تھا یا وہ جن سے محبت کی جاتی ہے، جن کے نقوش قدم پر چلا جاتا ہے، جو رہنمائی کرتے ہیں۔ جن کا آسرا ہوتا ہے، جو امید ہوتے ہیں، جو اعتماد ہوتے ہیں، جن کے سہارے قوموں کی زندگی کی نبض دوڑ رہی ہوتی ہے۔ ایسی کسی ہستی کا جدا ہونا بہت گراں محسوس ہوتا ہے اور بندہ کہتا ہے جا او سال۔۔۔ توں نے جاتے جاتے اتنا بڑا دکھ دیا، اتنا بڑا صدمہ دے کے رخصت ہوا۔ یہی دیکھ لیں، یہ برس جو گزرا ہے، اس ایک برس میں کتنے دکھ اور غم ہماری آنکھوں میں سجا کر رخصت ہوا۔
کتنے درد ہیں، جو ہم نے اس برس سہے، کتنے پیاروں کا غم ہے، جسے ہم نے اس گزرے سال کی گھڑیوں میں سہا ہے۔ کہاں گئے وہ رہبر معظم کے دست و بازو، جو ہمیں ان کے گرد حلقہ بنائے دکھتے تھے تو ہمارے رہبر شیر کی طرح نظر آتے تھے۔ نماز جمعہ پڑھاتے تو حلقہ یاراں کی لمبی قطار میں شناسا چہرے مقتدی ہوتے۔ کہیں آقای رئیسی ہوتے، کہیں جنرل جعفری، کہیں حاجی زادہ تو کہیں حسین سلامی باادب دکھائی دیتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے، جو آٹھ سالہ جنگ کے رفیق تھے۔ آٹھ سالہ جنگ میں رہبر معظم کمانڈر انچیف تھے، ان سب کو رہبر معظم کے دائیں بائیں دیکھنے کا یہ منظر بہت دلکش محسوس ہوتا تھا۔ بہت اعتماد اور حوصلے کا باعث ہوتا تھا۔ ان کے ہونے سے ایک آسرا اور امید رہتی کہ رہبر معظم کے شیران ساتھ ہیں۔ اب تو رہبر ایسے لگتے ہیں، جیسے صبح عاشور سے عصر عاشور تک علی شیر خدا کے لعل سید الشہداء امام حسین ؑ اپنے سارے پیارے مقتل میں بھیج کر میدان میں آن کھڑے ہوئے تھے۔
ایک دکھ ایسا ہے، جو گزرے سال میں نہیں سال نو کا سورج طلوع ہوتے ہی ہمیں سہنا پڑا، دکھ بھی ایسا جس کا درد ہمیشہ ہمارے قلوب کو رنجیدہ اور آنکھوں کو اشکوں سے تر کر دیتا ہے، وہ دکھ شیر خدا کے مالک اشتر کی طرح رہبر معظم کے مالک اشتر شہید قاسم سلیمانی کا دکھ ہے۔ یوں تو اس مقاومت و مزاحمت اور انقلاب نے ہر دور میں اپنے قیمتی ترین لوگوں کو قربان کیا ہے، مگر سیدہ زینب سلام اللہ علیہ کے روضہ اقدس کی حفاظت کی قسم اٹھانے کے سلسلہ سے شروع ہونے والے ایثار و قربانیوں کے سلسلہ کے عروج میں سب سے قیمتی قربانی سالار شہداء، شہید قدس جنرل قاسم سلیمانی کی 3 جنوری 2020ء بغداد ایئر پورٹ پر عسل شہادت پینے کے بعد سے ایک طویل اور دراز سلسلہ چلا، جس میں شام، لبنان، عراق، یمن اور فلسطین، غزہ کے محاذوں سے لیکر جمہوری اسلامی میں حالیہ 12 روزہ جنگ میں شہید ہونے والے عالمی سطح کے قائدین کہ جو رہبر معظم کے دست و بازو اور طاقت و قوت تھے، ان کی المناک شہادت کے سانحات ہیں۔
3 جنوری 2020ء بغداد ایئر پورٹ پر جنرل قاسم سلیمانی کی ان کے دیرنیہ ساتھی عراقی مقاومتی قائد ابو مہدی مہندس کیساتھ شہادت نے امریکہ، اسرائیل، عالمی استعمار اور ان کے نمک خوار عرب و عجم کے تکفیری مائنڈ سیٹ کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی تھی۔ اس پر امریکی صدر نے برملا اعتراف جرم کیا اور فخر کیا۔ حقیقت میں جنرل قاسم سلیمانی نے ایک طرف شام میں جا کر فلسطینی مظلوموں کی مدد و نصرت کا راستہ نکالا، لبنانی مقاومت کی بھرپور معاونت و ممکنہ مدد کی اور یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کے دفاع کو ایرانی سرحدوں سے بہت دور عراق و شام کے اندر جا کر ممکن بنایا۔ شام کا محاذ دراصل جمہوری اسلامی ایران کا دفاع تھا۔ یہ ایک اسٹرٹیجی تھی، جسے جنرل قاسم سلیمانی نے ہی سمجھا اور اسے عملی کرنے کیلئے بہت بڑا نیٹ ورک بنایا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اس کیلئے بھرپور جدوجہد کی، بہت بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں۔
شہید قاسم سلیمانی، جن کے دنیا بھر کے انقلابی فکر علماء، مقاومتی قائدین، مزاحمت کے سرخیل اور بزرگ آیات عظام سے شخصی روابط و تعلقات تھے، ان سب سے ملتے، ملاقاتیں کرتے تھے، ان کے حالات سے مکمل آگاہ تھے۔ ان کی طرف سے ہمیشہ ولایت و ولی امر کی حمایت و نصرت کی تاکید ہوتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اس نظام و انقلاب کیساتھ کون مخلص ہے، کون کس صلاحیت کا مالک ہے، کس کی کتنی ہمت اور قوت ہے۔ کون حکمت و دانائی، شجاعت و استقامت رکھتا ہے اور کون مرد میدان ہے۔ اس لیے ان کی دور اندیش اور تجربہ کار نگاہ میں ایک شخصیت تھی، جس کا برملا اظہار بھی کیا کرتے تھے۔ اسی بات کو ان کے حوالے سے معروف کتاب “ہمارا خوش بخت دوست” میں بھی لکھا گیا ہے کیا فرماتے ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی سب علماء کے پیشوا ہیں۔ لوگو! میری بات مانو! میں کسی بھی گروپ یا پارٹی کا رکن نہیں ہوں اور اسلام و انقلاب کی خدمت کرنے والوں کے علاوہ کسی کی طرف بھی میرا جھکاؤ نہیں ہے، لیکن یہ بات جان لو: خدا کی قسم! میں تمام شیعہ علماء کو نزدیک سے جانتا ہوں۔ اب چودہ سال ہوچکے ہیں اور میری یہی مشغولیت ہے۔ میں لبنان کے علماء کو جانتا ہوں، پاکستان کے علماء سے شناسائی ہے، خلیج فارس کے علاقے کے علماء سے آشنائی ہے، چاہے سنی ہوں، چاہے شیعہ۔ خدا کی قسم! میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ایران اور ایران سے باہر ان سب علماء و مجتہدین کے سردار تاریخ کی یہی بزرگ شخصیت یعنی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ ہیں۔
میری بہت سے شیعہ علماء کے ساتھ خط و کتابت اور ان کے ہاں آمد و رفت رہتی ہے، میں انہیں جانتا ہوں، ہم ان سے ارادت رکھتے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ وہاں کے لوگ ان کی اتباع کریں، مگر وہ کہاں اور یہ کہاں؟! ان کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔ اس مرد کی حکمت، اس کے اخلاق، دین، سیاست اور حکومتی انتظامات میں ہمیں غور کرنا چاہیئے اور سیاسی امور میں اپنی سرحدوں کو جدا رکھنا چاہیئے۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ جو چیز سب سے اہم ہے، وہ ہمارا ولایت سے منسلک رہنا ہے۔ جو چیز اہمیت کی حامل ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس نظام کی حمایت کریں۔
شہید سردار سلیمانی
آج شہید سردار قاسم سلیمانی ہمارے درمیان بہ ظاہر موجود نہیں، آج ان کے قریبی رفقاء بھی ان سے متصل ہوچکے۔ سید لبنانی بھی اپنے رفقاء سے جا ملے ہیں۔ ایسے میں ولی امر المسلمین اور نظام ولایت ہمارے درمیان روشنی کے وہ مینار ہیں، جنہیں ہم نے سردار کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مدھم نہیں ہونے دینا، اس مقصد کیلئے اگر ہماری جانیں بھی چلی جائیں تو اس کی پروا نہیں۔ اس لیے کہ سردار قاسم سلیمانی، ان کے رفقاء، سید لبنانی اور ان کے رفقاء کی جانیں اسی نظام ولایت اور مقاومت و مزاحمت کے راستے کو روش رکھنے کیلئے پیش کی جا چکی ہیں۔ ان کے بعد ہماری بے قیمت جانیں، اگر اس راہ میں روشنی کی معمولی کرن روش کرنے کے کام آسکیں تو ہم کبھی گھبرانے والے نہیں، نہ ہی ہمیں اس میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ یا گھبراہٹ ہے۔
پہلے سردار شہید اور ان کے بعد سید لبنانی کی شہادت کے بعد تو ہمیں اپنے جسم میں جان ویسے ہی بے ارزش سی محسوس ہوتی ہے۔ اے کاش ہم انہی عظیم شخصیات، اسلام و مسلمین کے مدافعان، مظلوم فلسطینیوں کے مددگار اور دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں و مزاحمتی قوتوں کی آس و امیدوں کیساتھ درجہ رفیع شہادت سے سرفراز ہوتے، وہ لوگ کتنے خوش بخت اور باعظمت ہیں، جنہیں یہ سعادت حاصل ہوئی اور وہ کتنے بدبخت ہیں، جنہوں نے اللہ کے ان ولیوں کی شہادت کیلئے دشمن کیساتھ تعاون کیا اور دونوں جہانوں کی جھنم کے حقدار ٹھہرے۔ شہید قاسم سلیمانی و سید لبنانی کی شہادت سے اگرچہ ولی امر کو ضعیفی و پیر مردگی کے اس دور میں ایسے صدمہ سے دوچار کیا گیا ہے، مگر معنوی لحاط سے دیکھیں تو یہ عظیم شخصیات قرآنی اصول اور فرامین کی روشنی میں جہاں موجود ہیں، ان کی زندگی اور زندہ ہونے کی گواہی موجود ہے۔
پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ عظیم شہداء اپنے عظیم رہبر و عزیز دوست سے متصل نہ ہوں۔ انہیں اپنی ظاہری زندگی کی طرح نصرت و مدد فراہم نہ کر رہے ہوں۔ جمہوری اسلامی و مقاومت کو مشکلات سے نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا نہ کر رہے ہوں۔ میرے خیال میں یہ لوگ آج بھی رہبر معظم کی طاقت ہیں، قوت ہیں، نا فقط یہ لوگ بلکہ تمام شہداء جو کربلا کے راستے پر شہادت سے ہمکنار ہوئے، یہ سب کے سب انقلاب اسلامی، ولایت اور ولی امر المسلمین کی پشتبانی کیلئے کردار ادا کرتے ہوئے ہر دور کی مشکلات و پریشانیوں نیز آفات میں معاون و مدد گار رہیں گے۔
The post شہید سردار و شہداء، پشتبان ولایت و مقاومت appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


