spot_img

ذات صلة

جمع

شیطانِ بزرگ کے مقابل، مزاحمت کی زندہ تاریخ

تحریر: آغا زمانی

ماننا پڑے گا کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے والا اور اپنی عسکری، معاشی اور سیاسی بالادستی کے بل پر دنیا پر دھونس جمانے والا ملک امریکہ ہی ہے کیونکہ جو کھلی بدمعاشی، جارحیت اور عالمی قوانین کی پامالی وہ مسلسل کر رہا ہے، اسے روکنے والا فی الحال کوئی نظر نہیں آتا۔ چین اپنی معیشت مضبوط کرنے اور اسلحہ فروخت کرکے مالی فوائد سمیٹنے میں مصروف ہے جبکہ روس سخت معاشی و عسکری پابندیوں کے بوجھ تلے اس حال میں ہے کہ آنے والے کئی عشروں تک عالمی سطح پر موثر مزاحمت کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا، یہاں تک کہ وہ وقت بھی دنیا نے دیکھا جب روسی پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکرز کو روسی بحریہ کی موجودگی کے باوجود امریکی بحریہ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور روس محض احتجاج اور اپیل تک محدود ہو کر رہ گیا۔

یہی وہ تناظر ہے جسے رہبرِ کبیر بانی انقلابِ اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے دہائیاں پہلے بھانپ لیا تھا جب انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ امریکہ شیطانِ بزرگ ہے، یعنی وہ طاقت جس کی ایما پر دنیا بھر میں جنگیں، قتل و غارت، سازشیں اور ظلم کی نئی نئی شکلیں جنم لیتی ہیں، بیت المقدس اور فلسطین پر صہیونی قبضہ بھی اسی شیطانِ بزرگ کی پشت پناہی اور سرپرستی کا شاخصانہ کردار ہے، مگر تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ انقلابِ اسلامی ایران نے اپنے آغاز سے ہی تمام نام نہاد سپر طاقتوں کو للکارا اور کسی کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کیا، اسی انقلاب کی بدولت مشرقِ وسطیٰ میں مزاحمت کی ایک نئی فکری و عملی لہر اٹھی۔

امام موسیٰ صدر، شہید شیخ راغب حرب، شہید عباس موسوی، شہید حسن نصراللہ اور ان جیسے بے شمار قیمتی علماء و نوجوانوں کی قربانیاں، نیز حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کے رہنماؤں کی شہادتیں اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ انہوں نے اس خطے کو سامراج کے سامنے کھڑا ہونا سکھایا، حالانکہ صہیونی ریاست کو مغرب نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کے قلب میں اس لیے لا بسایا تھا تاکہ فلسطین سے آغاز کرکے اردن، لبنان، شام اور مصر تک پھیلنے والے ”گریٹر اسرائیل” کے خواب کو پورا کیا جاسکے، جس کا ذکر تھیوڈور ہرزل کی تحریروں، بعض صہیونی رہنماؤں کے بیانات اور اسرائیلی عسکری و تعلیمی حلقوں میں زیرِ بحث نقشوں میں ملتا ہے جہاں نیل سے فرات تک توسیع کے عزائم کو نظریاتی جواز دیا گیا۔

لیکن اس بڑے شیطانی منصوبے کے سامنے آج تک سب سے مضبوط دیوار ایران کی انقلابی اسلامی حکومت بنی ہوئی ہے اور اسی بیت المقدس کے دفاع اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کی سزا ایران کو مسلسل دی جا رہی ہے، یہ بھی تاریخ کا ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر چند لمحوں میں لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والا ملک امریکہ ہی تھا اور آج بھی اسی کے پاس اتنا جوہری اسلحہ موجود ہے کہ وہ اس دنیا کو کئی بار تباہ کر سکتا ہے، اس کے باوجود امریکہ کا موجودہ جارح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلم کھلا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے دنیا کے کسی بھی ملک پر حملے کا اختیار حاصل ہے، سوال یہ ہے کہ آخر یہ اختیار اسے کس نے دیا؟ اقوامِ متحدہ کا چارٹر، عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ اور بین الاقوامی قوانین تو طاقت کے زور پر جارحیت، خودمختار ممالک پر حملے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے واضح طور پر روکتے ہیں، مگر جب مجرم خود منصف بن جائے تو قوانین محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ جاتے ہیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فرعون، نمرود، شداد اور یزید جیسے ظالم کردار ہر دور میں آتے رہے ہیں مگر انجام کار مٹ گئے، اصل بات یہ نہیں کہ آج کون فرعون ہے اور کون یزید، اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے مقابل اللہ موسیٰ(ع) اور حسین(ع) جیسے حق کے علمبردار پیدا کرتا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ایوانوں میں حق کا اعلان کیا، امام حسین علیہ السلام نے یزید کے سامنے سر کٹا دیا مگر باطل کے آگے سر نہ جھکایا، یہی تاریخی اسباق ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ آج کی ظالم طاقتیں بھی ہمیشہ نہیں رہیں گی، امریکہ کی ظاہری طاقت بھی زوال پذیر ہے اور جو اقوام و افراد ظلم کے مقابل حق کی آواز بلند کرتے ہیں وہ وقتی طور پر کمزور سہی مگر تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ حق کی گواہی دینا ہی سب سے بڑی عبادت اور سب سے بڑی فتح ہے۔

اسی تاریخی سلسلے کی کڑی اگر آج کے زمانے میں تلاش کی جائے تو نگاہ خود بخود ایران اسلامی کے رہبرِ معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ‌ ای پر جا ٹھہرتی ہے، جنہوں نے تنہا مگر پورے یقین کے ساتھ عالمی استکبار خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنے کا راستہ اختیار کیا، سخت ترین پابندیاں ہوں یا مسلسل دھمکیاں، معاشی جنگ ہو یا کردار کشی کی منظم مہم، انہوں نے نہ کبھی انقلاب کے اصولوں پر سمجھوتہ کیا اور نہ مظلوم اقوام کی حمایت سے ہاتھ کھینچا، فلسطین، لبنان اور پورے خطۂ مقاومت کے ساتھ ان کا فکری اور عملی تعلق محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور عہد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ‌ ای کی قیادت نے بار بار یہ حقیقت واضح کی کہ طاقت کا اصل سرچشمہ ہتھیاروں، ڈالرز یا میڈیا کی یلغار نہیں بلکہ نظریے پر یقین، قومی خودداری اور عوام کے اعتماد سے جنم لیتا ہے، اسی لیے آج بے پناہ عسکری قوت کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ایران کو جھکانے میں ناکام نظر آتے ہیں اور رہبرِ معظم کی ثابت قدمی امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیتی ہے کہ جب قیادت ایمان، بصیرت، ایثار، قربانی اور خدا پر توکل کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو تاریخ کے بڑے سے بڑے ظالم بھی آخرکار دفاع پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہی حقیقی اسلامی نظریے پر کاربند انقلابیوں کا منطقی حاصل ہے کہ حق پر قائم رہنے والی قیادت ہی آنے والے کل کی سمت متعین کرتی ہے۔

The post شیطانِ بزرگ کے مقابل، مزاحمت کی زندہ تاریخ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img