spot_img

ذات صلة

جمع

فرانس کی اسرائیل کو فوجی سازوسامان کی برآمدات میں اضافہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تنقید

شیعہ نیوز: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل...

اربیل میں علیحدگی پسند گروہوں کے ٹھکانوں پر ایرانی ڈرون حملہ

شیعہ نیوز: عراق کے کردستان ریجن کے سکیورٹی ذرائع...

طوفان الاقصی نے غاصب صیہونی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی، امام جمعہ تہران

شیعہ نیوز: تہران کے امام جمعہ نے عالمی یومِ طوفان الاقصیٰ کی مناسبت سے کہا کہ طوفان الاقصی نے غاصب صیہونی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔

رپورٹ کے مطابق  امام جمعہ تہران حجت الاسلام والمسلمین حاج اکبری نے عالمی یومِ طوفان الاقصیٰ کی مناسبت سے کہا کہ یومِ طوفان الاقصٰی کے موقع پر ہمیں اس آپریشن کے مختلف پہلوؤں اور نتائج کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

شہید رہبرِ انقلاب ان اولین شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اس واقعے کی اہمیت کو درست طور پر واضح کیا اور اسے صیہونی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے اور اس حکومت کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے سے تعبیر کیا جس کی تلافی ممکن نہیں۔

انہوں نے شہید رہبر انقلاب کی جانب سے اس آپریشن کو بروقت اور فیصلہ کن اقدام قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طوفان الاقصیٰ نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے خطے کے مستقبل کے لیے تیار کردہ منصوبوں کو چیلنج کر دیا اور یہ خطے کی سلامتی اور فوجی شعبوں میں وسیع تبدیلیوں کا باعث بنا۔

امام جمعہ تہران نے مزید کہا کہ اس آپریشن کے ثقافتی اور سیاسی اثرات بھی وسیع تھے اور اس نے ابراہیمی معاہدوں کے تحت خطے کے بعض ممالک کے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو متاثر کیا۔

حجت الاسلام حاج علی اکبری نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کے ساتھ صیہونی حکومت کے سلوک اور عام شہریوں کے وسیع پیمانے پر قتلِ عام نے عالمی رائے عامہ میں اس حکومت کی ایک مختلف تصویر پیش کی اور صیہونیوں کی تاریخی مظلومیت سے متعلق بیانیے کو سنجیدہ سوالات سے دوچار کر دیا۔

انہوں نے صیہونی حکومت کے بارے میں دنیا کے عوام کے خیالات سے متعلق سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض بین الاقوامی سروے میں اس حکومت کی مخالفت اور اس کے بارے میں منفی رائے رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رجحان عالمی رائے عامہ کے بعض حلقوں کے نقطۂ نظر میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

امام جمعہ تہران نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کی آمد اور نیتن یاہو کی تقریر کے دوران بڑی تعداد میں نمائندوں کے اجلاس سے باہر چلے جانے کا بھی ذکر کیا اور اسے عالمی سطح پر مختلف ممالک کے سیاسی احتجاج کی علامت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : لندن اور تل ابیب کے درمیان شدید کشیدگی؛ مقبوضہ قدس میں برطانوی قونصل خانہ بند

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ فلسطین ایک بار پھر عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور غزہ کی صورتِ حال نے فلسطینی عوام کے حالات کے حوالے سے عالمی حساسیت میں اضافہ کیا ہے۔

حجت الاسلام حاج علی اکبری نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے علاقائی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن نے خطے میں بعد کی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی اور اس کے اثرات کا لبنان، یمن اور عراق کی صورتِ حال میں بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے شہید یحییٰ سنوار، شہید اسماعیل ہنیہ، شہید محمد الضیف اور فلسطینی مزاحمت کے دیگر کمانڈروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قوتوں نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے ذریعے صیہونی حکومت کی ساکھ اور اس کی سلامتی کی تصویر کو شدید دھچکا پہنچایا، جس کے اثرات خطے کے مختلف شعبوں تک پھیل گئے۔

خطیبِ نمازِ جمعہ تہران نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ امریکی فوجیوں کا خطے سے انخلا ایک اہم تزویراتی ہدف ہے۔

انہوں نے فلسطین کی حمایت میں یمنی مجاہدین کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ اور صیہونی حکومت کے مقابلے میں ان کی ثابت قدمی کو سراہا اور علاقائی توازن میں مزاحمتی گروہوں کے کردار پر زور دیا۔

حجت الاسلام حاج علی اکبری نے حالیہ 12 روزہ اور 40 روزہ مسلط کردہ جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے توازن اور معادلات تبدیل ہو رہے ہیں اور ایران بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے رہبرِ انقلاب کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں ایران کے شعلوں کے درمیان سے ققنس کی طرح ابھرنے کا ذکر کیا گیا تھا، اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مشکل حالات میں اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور علاقائی و عالمی معادلات میں ایک مؤثر کردار کے طور پر موجود ہے۔

حجت الاسلام حاج علی اکبری نے ایران کے جوہری مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایران کے جوہری معاملے پر اظہارِ خیال کیا جاتا ہے تو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کا تعلق خود ایرانی قوم سے ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام ایرانی قوم کا حق ہے اور ملک کے اندر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) میں ایران کی رکنیت پر نظرثانی کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے۔

خطیبِ نمازِ جمعہ تہران نے مذاکرات میں ایران کی جانب سے اعلان کردہ شرائط کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم نے جن سات شرائط کا اعلان کیا ہے۔

ان کا پورا ہونا ضروری ہے؛ اس کے بعد ہم آئندہ اقدامات کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ ایران کی شرائط پوری ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا تصور محض ایک خیال ہے۔

جب تک مقررہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، یہی صورتِ حال برقرار رہے گی۔

The post طوفان الاقصی نے غاصب صیہونی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی، امام جمعہ تہران appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img