spot_img

ذات صلة

جمع

تم ذرا اور قریب آؤ، ایران کی دفاعی قیادت کا امریکی زمینی فوج کو پیغام

شیعہ نیوز: ایران کی اعلیٰ دفاعی قیادت نے امریکی...

ایران کی اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

شیعہ نیوز: ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز...

مغرب نے ایران کے اسٹریٹجک صبر کو غلط سمجھا، ملیشیائی میڈیا

شیعہ نیوز: ملائیشین خبررساں ادارے فری ملائیشیا ٹوڈے نے...

ظلم کے خلاف قیام: شیعہ قربانی، پاکستان کی بنیاد، اور امت مسلمہ کا پیغام

تحریر و ترتیب: سیدہ نصرت نقوی 

ہم امن چاہتے ہیں، مگر ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جس قوم نے ظلم کے خلاف سر اٹھایا، وہی بقا کے اصولوں کی حفاظت کر سکی۔ آج بھی یہی سبق ہمیں درپیش ہے۔ اگر جنگ لازمی ہو جائے، تو جنگ ہی صحیح۔ یہ جنگ صرف زمین یا سرحدوں کی نہیں، بلکہ اصولوں، اقدار، اور انسانیت کی بقا کے لیے ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں شیعہ برادری خاص طور پر ظلم و دہشت گردی، اقتصادی محرومی، اور معاشرتی ناانصافی کا شکار ہے۔ پچھلے دنوں ایک دھمکی دی گئی کہ ایران سے محبت رکھنے والے پاکستان چھوڑ کر ایران چلے جائیں۔ یہ دھمکی نہ صرف ایک مسلک کے بزرگ علماء کرام کے لیے تھی بلکہ پوری شیعہ امت کے لیے ایک انتباہ بھی۔ کیا یہ لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان کے قیام میں شیعہ افراد نے بنیادی کردار ادا کیا؟ کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کی 8 لاکھ فوج میں تقریباً 3 لاکھ شیعہ موجود ہیں، جو دل و جان سے اس ملک کے دفاع کیلئے جان دینے کو تیار ہیں؟ یہ وہ شیعہ ہیں جنہوں نے اس ملک کی بنیاد رکھی، جن کی قربانیوں کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہوتا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت، مادر ملت فاطمہ جناح کی قربانیاں، سر آغا خان سوم کی سیاسی جدوجہد، راجہ محمود آباد اور سیٹھ محمد علی حبیب کی مالی خدمات، مرزا احمد اصفہانی کی ادارہ سازی، اسکندر مرزا اور جنرل محمد موسیٰ خان کی دفاعی خدمات، اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی نوجوانوں کی تربیت۔

یہ سب پاکستان کے ستون ہیں، جنہیں آج کچھ نام نہاد لوگ بھلا بیٹھے ہیں۔ ظالم کی کوئی ذات، مذہب یا قوم نہیں ہوتی۔ آج دنیا کے طاقتور ممالک ایران و اسرائیل کے تنازع میں اپنے مفادات کے لیے کھیل کھیل رہے ہیں، لیکن وہ لوگ جو انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں، مظلوموں کے حق میں کھڑے ہیں، وہی حقیقی طاقت ہیں۔ ایران نے اپنے اصولوں اور عوام کی حفاظت کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ صرف ایک ملک کے لیے نہیں، بلکہ امت مسلمہ کے اصولوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔ آج وقت ہے کہ اہل سنت اور شیعہ، سب امت مسلمہ کے افراد، ایران کے ساتھ متحد ہو جائیں، کیونکہ ہر چہرے سے نقاب ہٹ چکا ہے۔ یہ جنگ نہ زمین کی جنگ ہے، نہ زر کی جنگ، بلکہ یہ بقاء کے اصولوں کی جنگ ہے۔ جو خون ہم نے نذر کیا ہے زمین کو، وہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطے، امن کی صبح کے واسطے۔ ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو، اور امت مسلمہ کو پیغام دیتے ہیں کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤ، حق کی راہ میں ہاتھ ملاؤ، اور ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر دنیا کو بتاؤ کہ ہم انصاف کے لیے متحد ہیں۔

پاکستان بنانے والے شیعہ آج بھی پاکستان کے مالک اور وارث ہیں۔ ملت تشیع کی قربانیاں اس ملک کی بنیاد ہیں، اور وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ شیعہ افراد جن کی وجہ سے پاکستان بنا تھا جنہوں نے اس ملک کی بنیاد رکھی اور اس کی جڑوں کو مضبوط کیا، بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت نہیں دیکھی؟ مادرِ ملت فاطمہ جناح کی قربانیاں نہیں یاد؟ سر آغا خان سوم صدر مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد بھول گئے؟ راجہ محمود آباد کی مالی خدمات، 1946ء میں مسلم لیگ کو انتخابات کے لیے مالی مدد دینے والے کو بھول گئے؟ سیٹھ محمد علی حبیب کی معاشی مدد، جب پاکستان کے پاس پیسے نہیں تھے، 80 ملین روپے بھول گئے؟ مرزا احمد اصفہانی کی ادارہ سازی، ایکسپورٹ کو بھول گئے؟ اسکندر مرزا کی ریاستی ذمہ داریاں بھول گئے؟ جنرل محمد موسیٰ خان کی دفاعی قیادت، 1965ء کے شیعہ آرمی چیف کی جنگی فتح کو بھول گئے؟ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی نوجوانوں کو بیدار کرنے کی کاوشیں، انکو بھول گئے؟ اور فاطمہ صغری کی جرات، پاکستان کا جھنڈا لہرانے والی کو بھول گئے؟

یہ سب پاکستان کی تاریخ کے وہ ستون ہیں جن کے بغیر یہ ملک مکمل نہیں ہوتا، پھر اگر کسی کو کہا جائے کہ شیعہ پاکستان چھوڑ دیں، تو دراصل یہ ان لوگوں کو کہنا ہے جنہوں نے پاکستان بنایا، جنہوں نے اسے سنبھالا، اور جنہوں نے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ پاکستان کے مالک، وارث شیعہ ہیں اور رہیں گے ملت تشیع کی قربانیاں پاکستان بنانے کا واحد ذریعہ تھی، اور رہیں گی۔ آج بھی ملک میں کہیں بھی کسی بھی حصے میں مسلک شیعہ کے افراد کسی قسم کے غیر قانونی واقعات میں ملوث نہیں ہوتے ہیں۔ ہم ملک پاکستان کے وفادار ہیں اور رہیں گے۔ انشاءاللہ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، ایران زندہ باد۔ تاریخ جانتی ہے، زمانہ گواہ ہے، اور ہر کور باطن کو بھی ایک دن حقیقت نظر آئے گی۔ ہماری جدوجہد کا مقصد صرف دشمن کو شکست دینا نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں ہر انسان امن، عزت، اور تحفظ کے ساتھ جی سکے۔ آج کا لمحہ ہماری آزمائش ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ یہی قربانی، یہی اتحاد، ظلم کے اندھیروں پر روشنی ڈالے گا۔

The post ظلم کے خلاف قیام: شیعہ قربانی، پاکستان کی بنیاد، اور امت مسلمہ کا پیغام appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img