شیعہ نیوز: لبنان کے صدر جوزف عون نے عالمی برادری سے صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور لبنان پر جارحیت کا سلسلہ بند کروانے کی اپیل کی ہے۔
جوزف عون نے کہا کہ چند دن بعد، (لبنان اور اسرائیل کے مابین) جنگ بندی کے معاہدے کے ایک سال پورے ہوجائيں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران لبنان نے مکمل طور پر جنگ بندی کی پابندی کا مظاہرہ کیا لیکن اسرائیل اس کی مسلسل خلاف ورزی کرتا آرہا ہے اور جارحیت کا دائرہ جنوبی قصبوں سے بھی آگے بڑھا چکا ہے۔
لبنان کے صدر نے کہا کہ بیروت یورپی یونین کے ہر منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشرق وسطیٰ کے بدلتے حالات، محمد بن سلمان امریکہ میں کیا تلاش کر رہے ہیں؟
یاد رہے کہ لبنان اور صیہونی حکومت کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کے تحت، غاصب فوجیوں کو 60 دن کے اندر لبنان کے جنوبی علاقوں سے پسپائی اختیار کرنا تھی لیکن صیہونی فوج نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانچ اسٹریٹیجک علاقوں میں اپنے فوجیوں کو تعینات کردیا جو کہ اس معاہدے اور مغربی ملکوں کے وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے نہ صرف اس سلسلے میں تل ابیب پر کوئی دباؤ ڈالا نہیں جا رہا ہے بلکہ حزب اللہ سے ہتھیار چھیننے کے لیے لبنان کی حکومت کو مجبور کرنے کی کوششوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ لبنان نے باضابطہ طور پر اعلان کردیا ہے کہ ہتھیار چھیننے کا مقصد لبنان کو نہتا کرکے “گریٹر اسرائیل” کی سازش کو یقینی بنانا ہے جس کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
The post عالمی برادری اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے کے لیے مجبور کرے، صدر جوزف عون appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


