حوزہ/ یکے بعد دیگرے منتخب ہونے والی عراقی حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ علاقائی توازن کو احتیاط سے سنبھالیں گے اور عراق کے اندر سیاسی عمل کی تشکیل سے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات مضبوطی سے مرتب ہو سکتے ہیں؛ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی لیڈرشپ عراق کو دوسرے محور کی طرف لے جا سکتے ہیں، کیونکہ علاقائی اور بین الاقوامی مداخلت عراقی فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔


