ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہم سب اس خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور اس کی مداخلت کے تلخ تجربے سے گزر چکے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہم ہمیشہ کے پڑوسی ہیں۔ علاقائی ممالک، بالخصوص وہ جنہوں نے ایران پر حملے کے لیے اپنی تنصیبات صیہونی حکومت کے حوالے کر دی ہیں،انہیں اپنے اس طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ اگر ہمیں ان ممالک کی سرزمین سے کوئی کارروائی ہوتی نظر آئی، تو اس کا جواب مختلف ہوگا۔


