شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غرب اردن کے شمالی شہر سلفیت کے شمال میں واقع مردہ گاؤں کی تقریباً 61 دونم اراضی کی بلڈوزنگ وہ تازہ ترین اقدام ہے جو زمین پر قبضے اور یہودیانے کے طویل منصوبے میں شامل کر لیا گیا ہے۔
حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ اسرائیلی انتہا پسند حکومت پورے مغربی کنارے پر مکمل غلبہ جمانے کے لیے توسیعی اور یہودیانے کی پالیسیوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
شدید نے موجودہ توسیع پسندانہ جارحیت میں خطرناک اضافے پر شدید تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فیصلے فلسطینی سرزمین اور اس کے باسیوں پر کھلا حملہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : الہان عمر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان کو سخت ہدف تنقید بنایا
انہوں نے واضح کیا کہ بلڈوزنگ کے یہ کام ان زرعی کھیتوں پر ہو رہے ہیں جو مردہ گاؤں کی سیکڑوں خاندانوں کی بنیادی روزی کا ذریعہ ہیں اور جن پر اس بستی کی تاریخی زرعی سرگرمیاں قائم ہیں۔ یہ صورت حال ماحول کی تباہی اور مقامی معیشت کو یکسر نقصان پہنچانے کے منظم منصوبے کی نشاندہی کرتی ہے۔
حماس رہنما نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی قوم اپنی زمین اور اپنے حقوق سے ایک انچ بھی دستبردار نہیں ہوگی اور اسرائیل کے ظلم و جبر اور مسلسل حملوں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
انہوں نے سرکاری اداروں، مقامی کونسلوں اور عوامی سرگرمیوں کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحانہ اقدام کے مقابلے کے لیے کوششیں تیز کریں، متاثرین کو قانونی اور میدانی سپورٹ فراہم کریں اور ہر ممکن طریقے سے بستیتی توسیع کا مقابلہ کریں۔
انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے اسرائیل کی بستیتی پالیسیوں کو روکیں اور اس فاشیزم کو لگام دیں جس کے ذریعے وہ ضم، قبضے اور بے دخلی کے منصوبے مسلط کرنا چاہتا ہے۔
The post غرب اردن میں زمینوں کی بلڈوزنگ اسرائیلی قبضے اور یہودیانے کے منصوبے کی تازہ کڑی ہے، حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


