شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں روزانہ کی بنیاد پر خواتین اور بچوں کا قتل عام جاری رکھنا ایک سال قبل شرم الشیخ میں جنگ بندی کے معاہدے پر طے پانے والے معاہدے کے باوجود جاری نسل کشی کی جنگ میں مزید شدت لانے کے مترادف ہے۔
حازم قاسم نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امن کونسل اور اس کے اداروں کی خاموشی اور قابض اسرائیل کو واضح طور پر اس فریق کے طور پر نامزد کرنے سے انکار جو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، سراسر ناقابلِ قبول ہے اور اسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : گرین لینڈ، امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان معاہدہ، نیٹو کا خیرمقدم
انہوں نے خبردار کیا کہ امن کونسل، نکولے ملادی نوف اور امریکی ثالث کی جانب سے قابض ریاست کے جرائم کو جواز فراہم کرنے کی کوششیں، اس کی خلاف ورزیوں سے نمٹتے وقت آئندہ اسرائیلی انتخابات کو مدنظر رکھنا، دراصل ان جرائم کے تسلسل کے لیے ڈھال فراہم کرنے اور جنگ بندی کے معاہدے کی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے۔
حماس کے ترجمان نے امن کونسل میں شامل عرب اور مسلمان ممالک کو دعوت دی کہ وہ کونسل کی جانب سے ان جرائم کو روکنے میں ناکامی کے تناظر میں، قابض ریاست کے جاری کردہ جرائم اور پے در پے خلاف ورزیوں کے خلاف ایک واضح اور عملی موقف اختیار کریں، بالخصوص جب فلسطینی فریق جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے۔
The post غزہ میں خواتین اور بچوں کا مسلسل قتل نسل کشی کی جنگ میں شدت اور جنگ بندی کی نفی ہے، حازم قاسم appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


