شیعہ نیوز: غزہ کے مزاحمتی شعبے “الحارس” نے اتوار کو مزاحمتی کارکنوں کو آئندہ مرحلے کے سنگین خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاط کے اعلیٰ ترین معیار اپنانے اور ہر ممکن ہوشیاری برتنے کی ہدایت کی۔
اس پلیٹ فارم نے واضح کیا کہ ذاتی حفاظت کے اقدامات پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے خاص طور پر مواصلات، نقل و حرکت اور قیام کے حوالے سے، اور کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کرنا ضروری ہے جو دشمن کو سکیورٹی میں کمزوری کا موقع فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں : خطے میں کشیدگی سے متعلق اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، سعودی عرب
الحارس نے کہا کہ اس حساس مرحلے میں احتیاط کو اولین ترجیح دینا مزاحمت کی حفاظت اور اس کے تسلسل کے لیے لازمی ہے۔
مزاحمتی شعبے نے یاد دہانی کرائی کہ قابض اسرائیل سات اکتوبر سنہ 2023ء امریکی اور یورپی حمایت کے ساتھ، غزہ میں نسل کشی کی کارروائیاں کر رہا ہے، جن میں قتل، قحط، تباہی، جبری نقل مکانی اور گرفتاری شامل ہیں، اور یہ بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالت کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جاری ہیں۔
الحارس نے کہا کہ ان سفاکانہ کارروائیوں میں 242 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں، جبکہ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ، سینکڑوں ہزاروں بے گھر، اور خوراک کی شدید قلت کے باعث کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، نیز غزہ کے علاقوں کی وسیع تباہی اور زیادہ تر شہروں کا نقشہ سے مٹ جانا بھی شامل ہے۔
The post غزہ میں مزاحمت کی وارننگ، دشمن کے حملوں کے خطرات بڑھ گئے، مجاہدین محتاط رہیں appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


