حوزہ/ غزہ کے آسمان تلے بارود کی بو ابھی باقی تھی، خیموں کے باہر ملبے کے ڈھیر تھے اور دلوں میں اپنے بچھڑ جانے والوں کی یادیں تازہ تھیں۔ اسی ویرانی میں ایک دن خواتین کی خوشی بھری آوازیں بلند ہوئیں۔ نہ پھولوں سے سجا کوئی میرج ہال تھا، نہ روشنیوں سے جگمگاتا کوئی گھر، نہ بارات کے لیے گاڑیاں اور نہ دلہن کے استقبال کی روایتی تیاریاں۔ بس چند بوسیدہ خیمے، پڑوسیوں کے دور شفقت، کاغذ کے کاغذی پھولوں کا ایک رنگین گلدستہ اور دو ایسے دل تھے جن سے زندگی نے سب کچھ چھین لیا تھا۔


