spot_img

ذات صلة

جمع

افغانستان ، عالمی دہشت گردی کا دوبارہ مرکز بن گیا

شیعہ نیوز : گزشتہ دنوں عالمی سطح پر ہونے...

فلسطین پر صہیونی قبضے کی حقیقت: ایک تاریخی منصوبہ اور استعماری سازش

شیعہ نیوز: برطانیہ اور مغربی طاقتوں کی پشت پناہی...

فلسطینیوں کی نسل کشی نہیں رکی، ایمنسٹی انٹرنیشنل

شیعہ نیوز: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں اعلان...

فلسطین پر صہیونی قبضے کی حقیقت: ایک تاریخی منصوبہ اور استعماری سازش

شیعہ نیوز: برطانیہ اور مغربی طاقتوں کی پشت پناہی سے صہیونی رہنماؤں نے زمینوں کی خریداری اور عرب آبادی کی جبری بے دخلی کے ذریعے فلسطین میں ایک غاصب حکومت کی بنیاد رکھی تاہم مقاومت نے اس ناپاک منصوبے کا راستہ روک دیا۔

فلسطین کے مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ دنیا کے چند با اثر یہودی رہنماؤں نے ایک الگ ملک بنانے کا منصوبہ بنایا۔ برطانیہ نے اس منصوبے کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنا چاہتا تھا۔ شروع میں یہودی رہنما اپنا ملک یوگنڈا میں قائم کرنا چاہتے تھے۔ کچھ عرصے بعد طرابلس (لیبیا) کا نام بھی سامنے آیا اور اس سلسلے میں انہوں نے اٹلی سے بات چیت کی، لیکن اٹلی نے صاف انکار کر دیا۔ آخر کار یہودی قیادت اور برطانیہ کے درمیان مفاہمت ہوگئی۔

اسرائیل کے قیام کا برطانیہ کا کردار

اس دور میں برطانیہ مشرق وسطی میں بڑے پیمانے پر اثر و رسوخ چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس نے یہودیوں کو فلسطین لانے کا منصوبہ بنایا۔ پہلے وہ تھوڑی تعداد میں آئیں، پھر آہستہ آہستہ اپنی تعداد بڑھائیں، اور آخرکار فلسطین جیسے اہم مقام پر قبضہ کرکے وہاں ایک ریاست قائم کر لیں۔ اس ریاست کو برطانیہ اپنا اتحادی بنانا چاہتا تھا تاکہ عرب اور اسلامی دنیا یہاں کبھی متحد نہ ہوسکے۔ اس طرح ایک بیرونی دنیا سے مسلط دشمن جاسوسی، دباؤ اور دھوکے سے خطے میں اختلافات پھیلاتا رہے اور یہی کچھ ہوا۔ شروع میں برطانیہ اور کچھ مغربی ممالک نے صہیونی تحریک کی بھرپور مدد کی۔ بعد میں یہ ریاست برطانیہ سے ہٹ کر امریکہ کی سرپرستی میں چلی گئی، اور آج تک امریکہ اس کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔

صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ روایتی جنگ سے نہیں کیا بلکہ بڑی چالاکی اور حکمت عملی سے کیا۔ انہوں نے فلسطین کے بڑے بڑے زرخیز علاقے، جہاں عرب کسان نسلوں سے کاشتکاری کر رہے تھے، ان امریکی اور یورپی مالکان سے بہت زیادہ قیمت پر خرید لیے جن کے نام پر یہ زمینیں تھیں۔ ان غیر ملکی مالکان نے خوشی سے زمینیں بیچ دیں۔ اس خرید و فروخت میں کئی دلال شامل تھے، جن میں سید ضیاء جو رضا خان کے ساتھ 1299 کی بغاوت میں شریک تھا، بھی شامل تھا۔ یہی شخص بعد میں فلسطین آکر مسلمانوں کی زمینیں یہودیوں کے لیے خریدنے میں لگا رہا۔

فلسطین پر قبضے کے لیے مظلومیت کا ڈرامہ

جب صہیونیوں نے زمینیں اپنے نام کرلیں تو انہوں نے انتہائی بے دردی سے عرب کسانوں کو وہاں سے نکالنا شروع کیا۔ کئی جگہ قتل و غارت بھی ہوئی۔ ساتھ ہی دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹی کہانیاں پھیلائی گئیں تاکہ عالمی رائے عامہ ان کے حق میں ہوجائے۔ قبضے کا سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے عالمی رائے عامہ کو دھوکے میں رکھنا ضروری تھا۔ اس جھوٹ اور فریب کی مثالیں حیران کن ہیں۔

صہیونی ذرائع ابلاغ نے فلسطین کے بارے میں بہت ہی جھوٹ پھیلائے اور ان کے جھوٹوں کو بہت سے لوگوں نے سچ مان لیا۔ حتی کہ فرانس کے مشہور سماجی فلسفی ژاں پل سارتر جیسے لوگ بھی ان کے پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے۔ سارتر نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اس نے لکھا تھا: “ایک بے سرزمین قوم کے لیے ایک بے قوم سرزمین” یعنی یہودی ایک ایسی قوم تھے جن کا کوئی ملک نہیں تھا، اور فلسطین ایک ایسی جگہ تھی جہاں کوئی قوم موجود نہیں تھی! یہ کس قدر جھوٹ تھا! فلسطین میں تو ایک مکمل قوم آباد تھی، جو نسلوں سے وہاں کھیتی باڑی کرتی تھی۔ متعدد شواہد موجود ہیں کہ پورے فلسطین میں گندم کے کھیت ایسے لہلہا رہے تھے جیسے سبز سمندر موجیں مار رہا ہو۔ پھر یہ “بے قوم سرزمین” کیسے ہوگئی؟

دنیا کے سامنے یہ ایسے ظاہر کرتے رہے جیسے فلسطین ایک ویران، اجڑا ہوا اور برباد خطہ تھا، اور یہ لوگ اسے آکر آباد کر رہے ہیں۔ یہ سراسر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا منصوبہ تھا۔ صہیونی ہمیشہ اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور آج بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

امریکی جرائد جیسے ٹائم اور نیوز ویک میں اگر کسی یہودی خاندان کے ساتھ ذرا سا واقعہ پیش آجائے تو اسے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے: تصویریں، تفصیل، مرنے والے کی عمر، اور بچوں کی مظلومیت… سب کچھ نمایاں ہوتا ہے۔ لیکن فلسطینی نوجوانوں، فلسطینی خاندانوں، بچوں اور عورتوں پر ہونے والی سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ظلم کی داستانوں کا نام تک نہیں لیتے چاہے وہ مقبوضہ فلسطین میں ہوں یا لبنان میں۔

خفیہ سودے بازی، مذاکرات اور لابنگ

صہیونی ہر حکومت، ہر سیاستدان، ہر دانشور، ہر صحافی، ہر ادیب تک پہنچتے، بات چیت کرتے، مفاہمتیں کرتے اور اپنا راستہ بناتے رہے۔ ان سب کے پیچھے بنیادی سہارا بیرونی طاقتوں کا تھا جس میں سب سے بڑھ کر برطانیہ پیش پیش تھا۔ اقوام متحدہ اور اس سے پہلے قائم ہونے والی لیگ آف نیشنز، جو بظاہر جنگ کے بعد دنیا میں امن کے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی گئی تھی سوائے چند نادر مواقع کے ہمیشہ صہیونیوں کی حمایت کرتی رہی۔ 1948ء میں اسی ادارے نے ایک انتہائی غیرمنطقی اور بے بنیاد قرارداد منظور کی جس کے تحت فلسطین کو بلاجواز تقسیم کر دیا گیا۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ فلسطین کی 57 فیصد زمین یہودیوں کو دی جائے، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس سے پہلے یہودیوں کے پاس صرف 5 فیصد زمین تھی۔ اس تقسیم کے بعد فورا ہی یہودیوں نے اپنی ریاست قائم کرلی اور فلسطینی دیہات، شہروں اور گھروں پر حملے شروع ہوگئے، جن میں بے شمار بے گناہ لوگ نشانہ بنے۔ اس دوران عرب ریاستوں کی جانب سے بھی بعض بڑی کوتاہیاں ہوئیں۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے امریکا اور دیگر طاقتوں کی مدد سے مصر، شام اور اردن کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا، جبکہ 1973ء کی جنگ میں بھی عالمی طاقتوں کی پشت پناہی نے اسرائیل کو مزید زمینیں ہتھیانے کا موقع دیا۔ حقیقت یہی ہے کہ صہیونی حکومت کا مقصد صرف موجودہ فلسطین نہیں بلکہ مسلسل توسیع ہے؛ پہلے ایک چھوٹا حصہ مانگا، پھر آدھا فلسطین لیا، پھر پورا فلسطین قبضے میں لیا، اور بعد ازاں اردن، شام اور مصر جیسے پڑوسی ممالک پر بھی حملہ آور ہوکر ان کی زمینوں پر قبضہ جمایا۔ آج بھی ساری کوشش گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے گرد گھومتی ہے، اگرچہ وہ اب اس کا نام کم لیتے ہیں اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ موجودہ حالات میں انہیں رائے عامہ کو دھوکے میں رکھنے کی شدید ضرورت ہے۔

مقاومت، صہیونیوں کے لئے ڈراؤنا خواب

صہیونیوں کی موجودہ مشکل یہ ہے کہ وہ امن کے محتاج ہیں، کیونکہ 1947ء سے 1967ء تک بیس سال تک کوئی مسلح جدوجہد نہیں ہوئی، لیکن وہ دور بھی ان کے لیے آسان نہ تھا۔ جب مسلح مزاحمت شروع ہوئی تو وہ فلسطین کے باہر سے ہوئی، جہاں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور دیگر گروہوں نے اردن، شام اور دیگر ممالک سے کارروائیاں کر کے حملے کیے، نقصان پہنچایا اور واپس چلے جاتے تھے۔

فلسطین کے اندر اس وقت کوئی منظم مزاحمتی تنظیم موجود نہیں تھی۔ وہاں کے لوگ خوف زدہ تھے اور کسی قسم کی مزاحمت کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن اسلامی انقلاب کے بعد دو بڑے واقعات پیش آئے۔ پہلا یہ کہ فلسطینی تحریک، جو پہلے ایک غیر مذہبی تحریک سمجھی جاتی تھی، اسلامی رنگ میں ڈھل گئی اور اسلامی مزاحمت نے جنم لیا۔ وہ مجاہدین بھی جو باہر سے کارروائیاں کرتے تھے جیسے لبنان یا دیگر علاقوں سے حملے کر کے اسرائیل کو نقصان پہنچاتے تھے، اب ایمانی جذبے کے ساتھ میدان میں اترے، اور یہ جذبہ بے حد طاقتور تھا۔

دوسرا اہم واقعہ انتفاضہ کا آغاز تھا۔ انتفاضہ یعنی مقبوضہ وطن کے اندر عوامی بغاوت اور قیام۔ صہیونی اس عوامی قیام سے سخت خوف زدہ ہیں، اگرچہ کوشش کرتے ہیں کہ حقیقت کو دنیا تک نہ پہنچنے دیں۔ لیکن فلسطینی عوام کی اندرونی جدوجہد ان کے لیے انتہائی دل ہلا دینے والی ہے۔ یہ ان کی کمر توڑ دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صہیونی حکمرانوں نے دنیا بھر سے لائے گئے یہودیوں سے وعدہ کیا تھا کہ یہاں انہیں امن، آسائش اور خوشحال زندگی ملے گی، اور وہ یہاں حکمرانی کریں گے۔ مگر اب وہ ان نئی نسل کے بیدار فلسطینیوں کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتے جو اپنے وطن کے حقیقی وارث ہیں۔ صہیونی حکومت کے بنیادی ستون لرز چکے ہیں۔

امن معاہدے صہیونی حکومت کی مجبوری

صہیونی حکومت آج مجبور ہے کہ خطے کی حکومتوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح امن کا معاملہ نمٹا لے تاکہ اپنی اندرونی مشکلوں پر قابو پاسکے۔ فلسطینی تنظیم آزادی اور یاسر عرفات کے ساتھ نام نہاد امن منصوبے کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی تھیں؛ صہیونی چاہتے تھے کہ کسی فلسطینی قیادت کو مصالحتی منصوبے میں شامل کر کے فلسطین کی مزاحمت کو خاموش کردیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ یہ غاصب صہیونی حکومت اپنے اصل منصوبے یعنی نیل سے فرات تک گریٹر اسرائیل کے قیام کا ذکر کرنے کی بھی جرأت نہیں رکھتی۔ ان کے باطل عقیدے کے مطابق ان کا ارض موعود دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلا ہوا ہے، اور جو حصے ابھی نہیں لے سکے، آگے چل کر وہ بھی ہتھیانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ مگر اب وہ اس کا اعلان تک کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

The post فلسطین پر صہیونی قبضے کی حقیقت: ایک تاریخی منصوبہ اور استعماری سازش appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img