ایران کی پارلیمان کے قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن ہماری ریڈلائن کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کیونکہ امریکہ کو معاہدہ کرنے کے لیے ہر حال میں ایران کو رعایت دینا ہوگی ورنہ انہیں ایران کی مسلح افواج کا سامنا ہوگا۔


