شیعہ نیوز: مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں جمعرات کی علی الصبح قابض اسرائیلی فوج نے وسیع پیمانے پر میدانی جارحیت کا مظاہرہ کیا جہاں بیک وقت کئی علاقوں میں دھاوے بولے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، براہ راست گولیاں برسائیں اور صوتی بم استعمال کیے گئے جبکہ چھاپوں اور گرفتاریوں کی مہم میں درجنوں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں رہائی پانے والے اسیران اور کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ اسی دوران صہیونی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی زمینوں اور املاک پر حملے بھی مسلسل جاری رہے۔
جنوب مشرقی بیت لحم کے قصبہ تقوع، قلقیلیہ اور الخلیل شہروں کے مغرب میں واقع بلدہ اذنا میں فلسطینی نوجوانوں اور قابض افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ قلقیلیہ کے محلہ النقار پر دھاوے کے دوران قابض فوج کی براہ راست فائرنگ سے ایک فلسطینی شہری کے پاؤں میں گولی لگی۔
قابض فوج نے قلقیلیہ کے مختلف محلوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی اور رہائی پانے والے اسیران کے گھروں کو نشانہ بناتے ہوئے چھاپوں کی کارروائیاں جاری رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں : یورپی ممالک کا گرین لینڈ میں اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ
الخلیل کے جنوب میں مسافر یطا کے علاقے میں قابض فوج نے چند ہی گھنٹوں کے اندر خربہ المجاز پر دوسری مرتبہ دھاوا بولا اور شہری محمود موسی ابو عرام کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اہل خانہ کو زبردستی گھر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا اور مکان کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔
اسی طرح الخلیل کے جنوب میں واقع الفوار کیمپ پر بھی دھاوا بولا گیا جہاں متعدد گھروں کی تلاشی لی گئی اور کارروائی کے دوران صوتی بم پھینکے گئے۔
شمالی مغربی کنارے میں بھی قابض افواج کی یلغار دیکھی گئی۔ نابلس کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں تل، شہر کے مشرق میں عوامی رہائشی محلہ، طوباس کے جنوب میں وادی الفارعہ، جنین کے جنوب میں بلدہ میثلون، نابلس کے عسكر قدیم اور عسكر جدید کیمپ اور شہر کے مغرب میں محلہ رفیدیہ کو نشانہ بنایا گیا۔ عسكر قدیم کیمپ میں ایک زوردار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
الخلیل میں قابض افواج نے بلدہ سعیر اور الشیوخ میں بڑے پیمانے پر دھاوے اور گرفتاریاں کیں۔ اس دوران شہید محمد کوازبہ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور متعدد شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن میں رہائی پانے والے اسیر محمد فہیم شلالدہ بھی شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 15 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
گرفتار ہونے والوں میں محمد حسام ابو مصطفی، عمر دویكات، محمد عمر الطیراوی، شریف قندیل، احمد حازم نصار اور حمد ابو حمدہ بھی شامل ہیں۔
دیگر علاقوں میں قابض افواج نے رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں المغیر، القدس گورنری کے شمال میں بلدہ کفر عقب، القدس گورنری کے شمالی علاقے محلہ الكسارات اور طولکرم کے مشرق میں بلدہ عنبتا پر دھاوے بولے جہاں کئی نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ایاد علاء فقہاء اور محمد یوسف عکہ شامل ہیں۔ اسی طرح جنین کے جنوب مغرب میں بلدہ عرابہ پر دھاوے کے دوران مزید آٹھ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔
اسی کے ساتھ ساتھ صہیونی آبادکاروں کے گروہوں نے بھی اپنی جارحیت جاری رکھی اور رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں المغیر کے سهل مرج سیع میں زیتون کے درخت کاٹ ڈالے جو فلسطینی زرعی زمینوں پر ایک اور سنگین حملہ ہے۔
یہ تمام کارروائیاں قابض اسرائیل کی اس منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت مغربی کنارے میں روزانہ کی بنیاد پر دھاوے اور گرفتاریوں کی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ فلسطینی عوام کو دبایا جا سکے اور ان کی مزاحمت کو کچلا جا سکے۔
The post مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی وسیع یلغار، کشیدگی میں خطرناک اضافہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


