شیعہ نیوز: ملائیشین خبررساں ادارے فری ملائیشیا ٹوڈے نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے معاملے میں مغرب نے اسٹریٹجک صبر کو غلط سمجھا، جس کے باعث (Deterrence) کے حوالے سے ایک بڑی غلطی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق مغربی تجزیہ کاروں نے ایران کے صبر و تحمل کو کمزوری سمجھا، جبکہ حقیقت میں ایران اپنی فوجی طاقت اور عزم پر قائم تھا۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے Deterrence کا ایک اہم عنصر یعنی اعتبار نظر انداز ہوگیا، جس سے مغرب کو یہ تاثر ملا کہ ایران کی سرخ لکیریں حقیقت نہیں رکھتیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مختلف واقعات، جیسے اعلیٰ کمانڈروں کی شہادت یا حملوں کے باوجود فوری ردعمل نہ دینا، مغرب کے لیے ایک غلط پیغام بنا۔ اس سے ایک خطرناک صورت حال پیدا ہوئی جہاں جتنا ایران صبر دکھاتا گیا، اتنا ہی مخالف فریق اسے کمزور سمجھتا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران اور مغرب کے درمیان سوچ کا فرق بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایران طویل المدتی حکمت عملی اپناتا ہے، جبکہ مغرب فوری نتائج پر توجہ دیتا ہے، جس سے غلط اندازے لگائے گئے۔
تاہم 2026 کے واقعات نے اس تاثر کو بدل دیا، جب ایران نے بڑے پیمانے پر ردعمل دکھایا، جس سے ظاہر ہوا کہ وہ نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے بلکہ حالات بدلنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ Deterrence ایک جامد چیز نہیں بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مخالف اسے کس حد تک سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اس بحران سے یہ سبق ملتا ہے کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کی طاقت اور ارادے کو حقیقتاً تسلیم کریں۔
The post مغرب نے ایران کے اسٹریٹجک صبر کو غلط سمجھا، ملیشیائی میڈیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


