شیعہ نیوز : پاکستان میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو اُجاگر کردیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں اپنی فکری بنیادوں اور مقاصد کے لحاظ سے کس حد تک باہم جڑی ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور داعش جیسی تنظیمیں ایک ہی نظریاتی سوچ سے متاثر ہیں، اسی لیے ملک دشمن عناصر کی کارروائیوں میں ایک دوسرے کی فکری یا عملی پشت پناہی معمول رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی ریاستِ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے تو اس کی نظریاتی ہم خیال تنظیموں کا خاموش رہنا خود ایک بڑا سوال ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی کئی دہائیوں پر مشتمل تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ گروہ فکری طور پر شدت پسند بیانیے کے قریب رہے ہیں، جس کا فائدہ اکثر اوقات دہشت گرد تنظیموں نے اٹھایا۔
سیکیورٹی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ریاست کو ایسی تمام تنظیموں کے خلاف فوری اور جامع کارروائی کرنی چاہیے جو ملک کے امن، وحدت اور ریاستی رٹ کے خلاف سوچ رکھتی ہیں۔ ان میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، داعش اور اہلِ سنت والجماعت جیسی تنظیمیں شامل ہیں جن کے بیانیے اور سرگرمیوں پر ماضی میں بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطین پر صہیونی قبضے کی حقیقت: ایک تاریخی منصوبہ اور استعماری سازش
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس شدت پسند فکر سے وابستہ کچھ گروہ اب بھی کھلے عام جلسے، اجتماعات اور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف انتہاپسندانہ سوچ کو تقویت مل رہی ہے بلکہ معاشرے میں فرقہ واریت اور عدم برداشت کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور امن کے لیے کسی بھی شدت پسند بیانیے یا تنظیم کے لیے گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اور اس ضمن میں مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
The post ملک دشمن سرگرمیوں پر تشویش: ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی فکری ہم آہنگی پر سوالات appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


