حوزہ/تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ دین کو نقصان ہمیشہ دین کے دشمنوں ہی سے نہیں پہنچا؛ کبھی نقصان ان لوگوں کے ذریعہ بھی ہوا جنہوں نے دین کا لباس پہن کر اقتدار کی چوکھٹ کو اپنا مرکز بنا لیا۔ جب عالم کا قلم حاکم کی مرضی کا محتاج، منبر اس کے اشارے کا منتظر اور فتویٰ سیاسی مفاد کا محافظ بن جائے تو صافہ اور پگڑی باقی رہتی ہے، مگر آزادیِ فکر اور حق گوئی کمزور پڑ جاتی ہے۔ سر پر عِقال ہوتی ہے مگر عقل غائب ہو جاتی ہے۔


