شیعہ نیوز: ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی دو روزہ دورہ تل ابیب پر روانہ ہونے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس سفر کا اصل ایجنڈا تل ابیب کے ساتھ فوجی اور اسٹریٹیجک تعاون نیز اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم کی تیاری ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، نریندر مودی 25 اور 26 فروری کو تل ابیب کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس دوران میزائلی دفاعی سسٹم، لیزر ہتھیار اور طویل المسافت ڈرون طیاروں کی مشترکہ تعمیر اور تحقیقات پر مفاہمت کی جائے گی۔
ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان سیکورٹی تعاون کے ایک ایم او یو پر دستخط ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی پابندیوں کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں کی مسجد ابراہیمی میں رمضان کے پہلے جمعہ کی ادائیگی
بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھی ہندوستان اور صیہونی حکومت کے درمیان فوجی تعاون کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ برسوں کے لیے اس کے حجم کو بڑھا کر10 ارب ڈالر تک پہنچانے کی بات کہی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی کے مقبوضہ سرزمینوں کے دورے کے بارے میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادہ کچھ کہا نہیں جا رہا ہے لیکن معتبر رپورٹوں کے مطابق، تل ابیب نے لیزر بیم دفاعی سسٹم اور دیگر دورمار سسٹموں کو ہندوستان کو دینے کی اجازت دے دی ہے حالانکہ اس سے قبل نئی دہلی کو مذکورہ دفاعی سسٹم نہیں دیے جا رہے تھے۔
دوسری جانب ہندوستان، صیہونی حکومت کے ساتھ اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹموں میں توسیع کے سلسلے میں تعاون کرے گا جس کا مقصد ہندوستان کے مرکزی حصوں کو بیلسٹک میزائلوں سے محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل نریندر مودی نے سن 2017 میں مقبوضہ سرزمینوں کا دورہ کیا تھا۔
The post مودی10 ارب ڈالر کے فوجی تعاون کے لیے تل ابیب کا دورہ کریں گے appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


