spot_img

ذات صلة

جمع

تم ذرا اور قریب آؤ، ایران کی دفاعی قیادت کا امریکی زمینی فوج کو پیغام

شیعہ نیوز: ایران کی اعلیٰ دفاعی قیادت نے امریکی...

ایران کی اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

شیعہ نیوز: ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز...

مغرب نے ایران کے اسٹریٹجک صبر کو غلط سمجھا، ملیشیائی میڈیا

شیعہ نیوز: ملائیشین خبررساں ادارے فری ملائیشیا ٹوڈے نے...

موساد نے امریکہ اور اسرائیلی قیادت کو ایران میں بغاوت کے خواب دکھا کر دھوکہ دیا، نیویارک ٹائمز

شیعہ نیوز: امریکی اخبار کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی جانب سے ایران میں بغاوت بھڑکانے کے اندازوں نے امریکی اور اسرائیلی قیادت کو جنگ کے حوالے سے غلط توقعات میں مبتلا کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں موجودہ صورت حال اور جنگ سے نکلنے میں امریکا اور اسرائیل کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگ سے قبل اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بارنیا کا دعویٰ تھا کہ جنگ کے آغاز کے چند ہی دنوں میں ان کا ادارہ ایران میں مخالف عناصر کو متحرک کر کے بغاوت بھڑکا سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر نظام کے خاتمے تک جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مغرب نے ایران کے اسٹریٹجک صبر کو غلط سمجھا، ملیشیائی میڈیا

یہ منصوبہ انہوں نے جنوری کے وسط میں واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی حکام کے سامنے بھی پیش کیا تھا، تاہم امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کو اس منصوبے کی عملی حیثیت پر شکوک تھے، اس کے باوجود نتن یاہو نے اسے قبول کر لیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے اس خوش فہمی کو اختیار کیا کہ جنگ کے آغاز میں ایرانی عہدیداروں کو نشانہ بنانے اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، جس سے وسیع پیمانے پر بغاوت بھڑک اٹھے گی اور جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے جنگ کے آغاز پر اپنی تقریر میں ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی حکومت کو خود سنبھال لیں، تاہم جنگ شروع ہونے کے تین ہفتے بعد بھی ایران میں کسی قسم کی داخلی بدامنی دیکھنے میں نہیں آئی۔

امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایرانی نظام بدستور قائم ہے، جبکہ سکیورٹی اداروں کی مضبوطی کے باعث بغاوت کے امکانات کم ہو گئے ہیں اور بیرونی حمایت یافتہ گروہوں کی کارروائیوں کا خدشہ بھی محدود ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں بغاوت بھڑکانے کا تصور جنگی منصوبہ بندی کی ایک بنیادی خامی ثابت ہوا، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں پھیلتی اس جنگ کی پیچیدگیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

اگرچہ نتن یاہو کے بیانات میں اب کچھ نرمی آئی ہے، تاہم وہ اب بھی زمینی افواج کے ممکنہ استعمال کی بات کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پس پردہ وہ موساد کی جانب سے بغاوت بھڑکانے کے وعدے پورے نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل نتن یاہو نے موساد کے پرامید اندازوں کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایرانی نظام کا خاتمہ ایک قابل حصول ہدف ہے، حالانکہ کئی امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ماہرین اس تجزیے سے متفق نہیں تھے۔

امریکی فوجی حکام نے بھی ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بمباری کے دوران ایرانی عوام سڑکوں پر نہیں آئیں گے، جبکہ انٹیلی جنس اداروں نے بھی بغاوت کے امکانات کو کم قرار دیا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موساد کے شمالی عراق میں موجود کرد گروہوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ امریکی حکام کے مطابق سی آئی اے اور موساد نے ان گروہوں کو ماضی میں اسلحہ اور دیگر مدد فراہم کی ہے۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے شمال مغربی علاقوں میں عسکری اور پولیس اہداف کو نشانہ بنایا تاکہ کرد گروہوں کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔

تاہم امریکی حکام اب اس حکمت عملی سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے اندر ممکنہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتے رہے، اور انہوں نے نظام کے خاتمے کو ایک کمزور امکان قرار دیا۔

اس کے برعکس اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے طویل عرصے سے ایران میں بغاوت کے امکانات پر غور کرتے رہے تھے، تاہم ماضی میں وہ خود بھی اسے قابل عمل نہیں سمجھتے تھے۔

اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس شعبے کے سابق عہدیدار شاہار کویفمن نے کہا کہ ایران کے نظام کو کمزور یا ختم کرنے کے مختلف منصوبے زیر غور آئے، مگر ان کے مطابق یہ ابتدا ہی سے ناکامی کے شکار تھے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے نظام کا خاتمہ ایک قابل حصول ہدف نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ ایران میں بغاوت بھڑکانے کی کوشش وقت کا ضیاع ہے، اور اس مقصد کے لیے مختص وسائل کم کر دیے گئے تھے۔

کوہن کے دور میں موساد نے اندازہ لگایا تھا کہ نظام کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کتنے افراد کی سڑکوں پر موجودگی ضروری ہوگی، اور اسے ماضی کے احتجاجی مظاہروں سے موازنہ کیا گیا، جس کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ایسا ممکن نہیں۔

تاہم گزشتہ سال اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے امکانات بڑھنے کے ساتھ، بارنیا نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اس منصوبے پر دوبارہ توجہ دی اور وسائل مختص کیے۔

رپورٹ کے مطابق بارنیا کو یقین تھا کہ ابتدائی فضائی حملوں اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد ایران میں بغاوت بھڑکائی جا سکتی ہے، تاہم جنگ کے آغاز کے بعد ایسے کوئی آثار سامنے نہیں آئے۔

The post موساد نے امریکہ اور اسرائیلی قیادت کو ایران میں بغاوت کے خواب دکھا کر دھوکہ دیا، نیویارک ٹائمز appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img