شیعہ نیوز: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون اسٹیو وائٹیکاف اور جیرڈ کوشنر ایران سے متعلق اہم ملاقاتوں کے لیے “ابھی” سفر کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ “میں ایران پر حملہ کرنے کی بات نہیں کر رہا ہوں کیونکہ صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔”
روبیو نے دعوی کیا کہ ہماری توجہ مذاکرات پر ہے۔ اگر اس میں تبدیلی آتی ہے تو یہ سب پر واضح ہو جائے گا اور ظاہر ہے کہ ہم وہ کریں گے جو قانون ہم سے کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ کے بجائے ایران پر توجہ دی جائے، اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کی بوکھلاہٹ
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا حصول صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے۔
مارکو روبیو نے میونخ سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترجیحی آپشن ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ معاہدے تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کا “تنازعات کے حل میں کوئی کردار نہیں ہے۔”
ایران سے متعلق روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے گزشتہ روز تضاد بیانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایران کے خلاف اپنے فرسودہ دعوؤں اور دھمکیوں کو ایک بار پھر دوھرایا ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو شمالی کیرولائنا میں قائم امریکی فوجی اڈے میں تقریر میں کہا کہ ان (ایران) کے ساتھ معاہدہ کرنا انتہائی سخت اور دشوار ہے۔
خود کو امن کا صدر سمجھنے والے امریکی صدر نے بعدازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی دھمکیوں کو پھر دوھرایا اور ایران پر اقدام نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
واضح رہے کہ ایران پر حالیہ مذاکرات میں سختی سے کام لینے کا الزام لگانے والے امریکی صدر نے رواں سال جون میں اس وقت اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔
The post وائٹکاف، کوشنر ایران سے متعلق اہم ملاقاتوں کے لیے سفر کر رہے ہیں، مارکو روبیو appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


