شیعہ نیوز: اسلامی جمہوریہ ایران میں ہونیوالے وہ احتجاجات جنہیں عوام کی بصیرت اور حکام کی تدبیر کے باعث وسیع پیمانے پر بدامنی میں تبدیل ہونے نہیں دیا گیا، ٹرمپ کو مجبور کر گئے کہ وہ ایک دھمکی آمیز پیغام جاری کرے۔ گزشتہ ہفتے کے اتوار سے ایران میں عوام کی جانب سے سخت معاشی حالات کے خلاف احتجاجی اجتماعات کا آغاز ہوا، لیکن ایک طرف احتجاج کرنے والے عوام کی سمجھداری کہ انہوں نے اپنے صفوں کو ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے الگ رکھا، اور دوسری طرف حکومتی سطح پر عوام کے جائز احتجاج کو تسلیم کرنا، اسلامی جمہوریہ کے ذمہ داران کی تاجر تنظیموں، دکانداروں اور عام عوام کے ساتھ ہمدردی، اور حکومت و پارلیمنٹ کی اصلاحی کوششیں، یہ سب اس بات کا باعث بنے کہ احتجاجات نسبتاً ایک منطقی سمت میں آگے بڑھیں اور شرپسند عناصر کا ہاتھ روکا جائے تاکہ وہ احتجاج کو بدامنی میں نہ بدل سکیں۔
پانچ دن سے بھی کم عرصے میں تہران اور دیگر شہروں میں ابتدائی جذباتی کیفیت ختم ہو گئی اور اب یہ احتجاجی فضا بھی آہستہ آہستہ خاموش ہو رہی ہے۔ چند روزہ مناظر، دشمن کے منصوبے کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کی تصاویر اور خبریں اس بات سے بھری ہوئی ہیں کہ دشمن کے میدانی عناصر عوام کو سڑکوں پر لانے اور احتجاج کو بدامنی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ مثلاً تہران بازار میں ایک نوجوان دکاندار کا سبز اسکارف والی عورت سے جھگڑا کہ احتجاج کے لیے ہم نہ بازار چھوڑیں گے اور نہ توڑ پھوڑ کریں گے، کئی ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جو بعد میں خود اُن افراد نے جھٹلایا جنہیں مقتول دکھایا جا رہا تھا اور ایسے پرامن احتجاجی اجتماعات کی ویڈیوز جن پر برانداز گروہوں اور ان کے حامیوں کے من پسند نظام مخالف نعرے بعد میں ڈب کر کے شامل کیے گئے تھے۔
یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ ایک طرف دشمن اپنی مطلوبہ سطح کی بدامنی پیدا کرنے میں ناکام رہا، اور دوسری طرف ایرانی عوام اپنے جائز حقوق کے مطالبے میں ایسی سیاسی بلوغت تک پہنچ چکے ہیں جس کی دشمن کو توقع نہیں تھی۔عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ دشمن ان احتجاجی اجتماعات سے ایران کے خلاف فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اسی لیے یا تو لوگ ان اجتماعات میں شامل نہیں ہوتے، یا اگر ہوتے بھی ہیں تو صورتحال کو ایسے کنٹرول کرتے ہیں کہ اس کا نتیجہ خود اپنے ملک اور نظام کو دشمن کے ہاتھوں میں دینے کی صورت میں نہ نکلے۔
یہ سیاسی بلوغت، امریکہ و اسرائیل کے لیے ایک اور بڑی شکست ہے:
احتجاجات میں سامنے آنے والی یہ سیاسی سمجھداری، امریکہ اور اسرائیل کے لیے 12 روزہ جنگ میں شکست کے بعد ایک اور ناکامی ہے، بلکہ یہ شکست اس عسکری شکست سے بھی بڑی اور فیصلہ کن ہے، کیونکہ ایرانی عوام نے دشمن کی امیدوں پر ایسا پانی پھیر دیا ہے کہ یہ گویا دشمن کے دماغ پر آخری ضرب ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سمجھتے تھے کہ 12 روزہ جنگ میں ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ ایرانی عوام اسلامی جمہوریہ کے مقابل کھڑے نہیں ہوئے۔ لہٰذا انہوں نے جنگ کے بعد یہ منصوبہ بنایا کہ ایرانی عوام پر معاشی دباؤ جاری رکھا جائے اور اسے مزید بڑھایا جائے، یا 1401 کے فسادات کو خواتین کے موضوعات کے گرد دوبارہ زندہ کیا جائے، تاکہ عوام کو نظام کے مقابل کھڑا کر کے داخلی جنگ کی صورتحال بنائی جائے اور پھر ایران کو آخری وار سے کمزور کیا جا سکے۔
ٹرمپ اور امریکہ نے ایرانی عوام کو پہچانا ہی نہیں:
لیکن وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے ایرانی عوام کی بصیرت کو سمجھا ہی نہیں۔ ٹرمپ اور امریکہ کی شناخت ایرانی قوم کے بارے میں بس اتنی ہے کہ وہ کبھی کبھی کہتے ہیں کہ ایران کے لوگ بہت ہوشیار ہیں، حالانکہ یہی جملہ کافی تھا کہ وہ سمجھ جاتے کہ ہوشیار قوم دوست اور دشمن میں فرق جانتی ہے اور دشمن کے میدان میں اپنے ہی ملک کے خلاف کھیل نہیں کھیلتی۔ لیکن امریکہ کا مغرور اور فاسد صدر ابھی تک نہیں سمجھا، جبکہ اس کا ملک دہائیوں سے ایران کے خلاف بدنام زمانہ کارنامے کرتا رہا ہے، بغاوتیں اور سازشیں، جاسوسی، دہشت گردی اور قتل، سخت ترین پابندیاں (تیل کی فروخت، بینکاری نظام، خاص مریضوں کی ادویات کی فراہمی روکنا وغیرہ)۔
آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر 12 روزہ جنگ میں ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کی شہادت میں شراکت۔ پھر بھی وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ ایرانی قوم اس کی ایک آواز پر سڑکوں پر نکل آئے اور اُس حکومت کے مقابل کھڑی ہو جائے جس نے آٹھ سال عوام کے ساتھ جنگ لڑی مگر ایک انچ زمین نہیں دی، اور 12 روزہ جنگ میں بھی حملہ آور کو اپنے میزائلوں کے ضربوں سے اس حد تک کچلا کہ دشمن کو بالآخر کئی واسطوں سے جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی۔ کیا امریکہ کا نادان صدر واقعی سمجھتا ہے کہ ایرانی عوام اُس پر اور اُس کے حمایتی پیغام پر اعتماد کریں گے؟ ہرگز نہیں!
ٹرمپ کا پیغام ایرانی عوام کے لیے نہیں، اپنے ناکام ایجنٹوں کو سہارا دینے کے لیے ہے:
یہ پیغام بنیادی طور پر ایرانی عوام کے نام نہیں تھا، اور نہ ہی یہ ایران کی حکومت کو امریکہ کی براہِ راست مداخلت سے ڈرانے کے لیے تھا۔ کیونکہ اب ایران کی جنگی طاقت اور اس کی تباہ کن دفاعی صلاحیت کو اگر کوئی نہ بھی جانتا ہو تو امریکہ اور اسرائیل اسے اچھی طرح چکھ چکے ہیں اور فی الحال ایران سے جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مصنف کے نزدیک یہ پیغام بھی 12 روزہ جنگ میں امریکہ کی براہِ راست مداخلت کے مانند ہے، جب اسے محسوس ہوا کہ اس کا خطے میں پراکسی (صہیونی حکومت) ایران کے حملوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہی اور شکست قطعی ہے۔
اب بھی جب سی آئی اے اور موساد کے میدان میں موجود عناصر ایران میں بدامنی بھڑکانے میں ناکام رہے ہیں تو امریکی صدر نے خود براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے حمایت اور دھمکی کا پیغام جاری کیا ہے تاکہ اس بار ایران کی سڑکوں پر موجود اپنے پراکسی ایجنٹوں کو کسی آبرومندانہ طریقے سے شکست سے نکالا جا سکے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ ہوشیار ایرانی عوام یہ شکست بھی انہیں دشمنوں پر مسلط کریں گے، اور اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں بھی جدوجہد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ دشمن مکمل طور پر مایوس ہو جائے۔
The post ٹرمپ کا دھمکی آمیز پیغام، ایرانی عوام کے نہ جھکنے کی علامت appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


