شیعہ نیوز: اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کوئی فوجی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب فیصلہ کن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب فیصلہ کن ہوگا اور ایسی کسی کارروائی کو اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنے دفاع کے بنیادی حق کا استعمال کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : محکمہ داخلہ پنجاب کی کالعدم تنظیموں کو خیرات نہ دینے کی تلقین ،اہلسنت والجماعت اور سپاہ صحابہ بھی شامل
ایروانی نے 19 فروری کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلا متی کونسل کے صدر جیمز کاریوکی کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا، جس میں امریکہ کی جانب سے بار بار طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کا حوالہ دیا گیا۔
ان دھمکیوں میں ڈیگو گارشیا سمیت دیگر علاقائی اڈوں سے ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے بھی شامل تھے۔
ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ ایسے بیانات اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی خلاف ورزی ہیں اور پہلے سے کشیدہ خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران سفارتی عمل اور جوہری مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے تاکہ غیر قانونی اور غیر انسانی یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے اور اپنے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق ابہامات کو دور کیا جا سکے۔
ایروانی نے کہا کہ اگر امریکہ بھی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا احترام کرے تو ایک پائیدار اور متوازن حل کا حصول ممکن ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے امریکہ کو فوری طور پر طاقت کے استعمال کی غیر قانونی دھمکیوں سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
ایرانی مندوب نے خبردار کیا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو معمول کا سیاسی ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اگر ایسی روش کو نہ روکا گیا تو کسی اور خودمختار ملک کی باری بھی آ سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران نہ کشیدگی چاہتا ہے اور نہ جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم اگر اس پر فوجی حملہ کیا گیا تو وہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے مناسب اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔
ایسی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوت کے تمام اڈے اور تنصیبات جائز اہداف سمجھے جائیں گے، اور کسی بھی غیر متوقع نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
The post کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا دوٹوک اعلان appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


