دینی مدارس میں پڑھنے والے بچے بچیاں کیا لاوارث ہیں ؟ کیا وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بچے بچیاں نہیں ہیں ؟
ان معصوموں کے پاس کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں، نہ انکی فکری، ذہنی، اعصابی و جسمانی حفاظت کا کوئی انتظام ہے، غریب سادہ لوح عوام کہ جو اپنی غربت کے باعث اور ثواب سمجھ کر اپنے انتہائی کمسن و معصوم بچوں بچیوں کو دینی مدارس میں بھیج دیتے ہیں، ایسے اکثر بچے بچیاں کہ جنکی مستقل خوراک و رہائش، متعلقہ مدرسے کے ذمہ ہوتی ہے کہ جسے دینی مدارس، زکوٰۃ عشر فطرانہ صدقات خیرات عطیات سے پورا کرتے ہیں،
یہ بھی پڑھیں : جلوس عزا میں مجتہد اور بزرگوں کی تصویر نہیں ہونی چاہیئے، مولانا شہنشاہ حسین نقوی
وہ تمام بچے بچیاں، متعلقہ مدرسے کے مہتمم اور ملاؤں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں, وہ چاہیں تو ان معصوم بچوں بچیوں پر رحم کریں اور جب چاہیں جیسے چاہیں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیں، کوئی پرُسان حال نہیں ہے، اکثر دینی مدارس کے بچے بچیاں متعلقہ مسلک کو ہی پڑھنے پر مجبور ہیں اور پھر ساری عمر اسی مسلک کے فروغ کیلئے وقف ہیں، ایک طرف امراء کیلئے انٹرنیشنل لیول کے پرائیویٹ سکولز و کالجز و یونیورسٹیز ہیں کہ جہاں پر طلباء و طالبات کو ہر طرح کی آزادی اور پروٹیکشن ہے اور دوسری طرف ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بے بس بے کس بے زباں لاوارث و معصوم بچے بچیاں ہیں، کیا یہ معصوم بچے بچیاں اپنی زبان حال سے اللّٰہ کی بارگاہ میں ہمارے معاشرے کی شکایت نہیں کر رہے ہونگے؟ کہ باری تعالیٰ، اگر ہم غریب گھروں میں پیدا ہوئے، ہمارے سادہ لوح غریب والدین نے ہمیں دینی مدارس میں بھیج دیا تو کیا معاشرے کے دیگر تمام افراد و ریاست بھی ہمارے والدین کی طرح مجبور تھے کہ انہوں نے ہم پر دن رات دین کے نام ہونے والے ظلم و ستم سے اپنی آنکھیں اور کان بند کیے رکھے، اور سب کچھ دیکھنے سننے کے باوجود، ہمارے لیے کچھ نہ کیا، ہم سب، ہمارا معاشرہ اور ہماری ریاست اللّٰہ کی بارگاہ میں کیا جواب دیں گے؟
The post کیا دینی مدارس میں پڑھنے والے بچے بچیاں، لاوارث ہیں؟ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


