spot_img

ذات صلة

جمع

یمن سعودی تنازعے پر پاکستان کی پوزیشن پر شدید تحفظات کا اظہار

شیعہ نیوز: مشہور پاکستانی سیاست دان اور حقوقِ خلق پارٹی کے سربراہ عمار علی جان کا یمن سعودی تنازعے پر پاکستان کی پوزیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا ، اپنے تحفظات کو انھوں نے بہترین انداز میں سپرد تحریر کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ پاکستانی حکومت مشرقی وسطی میں ایک بدترین غلطی کرنے جارہی ہے۔

کل کے اعلامیئے میں کہا گیا یے کہ مکہ معاہدے کے تحت سعودی حکومت کی معاونت کے لئے پاکستان اور ترکی اپنی افواج سعودی عرب روانہ کررہے ہیں۔ اس وقت بلوچستان اور خیبر پختونخواہ جل رہا ہے اور سیاسی و معاشی عدم استحکام اپنے عروج پر یے۔ ایسے وقت پر اغیار میں کسی بحث اور پارلیمنٹ سے رجوع کئے بغیر جنگ میں کود پڑنا کہاں کی عقلمندی یے؟

بدقسمتی سے پاکستان میں لوگوں کو یمن کے بحران کی تاریخ اور سنگین نوعیت کا زیادہ علم نہیں اور وہ اسے فرقہ وارانہ زاویئے سے دیکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک طویل اور پچیدہ لڑائی یے۔ 1962 میں یمن میں انقلاب برپا ہوا جس نے روایتی اور انقلابی گروہوں کو ایک خوفناک خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ جمال عبدل ناصر کے مصر نے انقلابی حکومت کی حمایت شروع کردی جبکہ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل نے بادشاہ کے حمایتی جنہیں Royalist کہتے تھے کو اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا۔ اس جنگ کو “مصر کا ویتنام” بھی کہتے ہیں کیونکہ اسرائیل نے مصر کو یمن میں اسی طرح پھنسا دیا جس طرح امریکہ ویتنام میں پھنس گیا تھا۔ مصر معاشی طور پر کمزور ہوگیا اور 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست نے اس کے اثر کو مزید کمزور کردیا۔

یہ بھی پڑھیں : سکیورٹی فورسز کی پختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 18 خارجی دہشت گرد ہلاک

اس خانہ جنگی کے بعد یمن بہت عرصہ علی صالح کی ایک غیت مقبول آمریت کے ماتحت تھا۔ اسی دوران زیدی شعیہ کمیونیٹی نے 1990 میں مزاحمت شروع کی یاد رہے کہ اس خطے کے لوگ 1960 کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کے ساتھ تھے لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بدعنوانی کی وجہ سے وہ حکومت مخالف ہوئے۔ آج یہ گروہ حوثی یا انصار اللہ کے نام سے مشہور ہے اور ان کی اپنی تاریخ آپ کو یوٹیوب پر کئی ویڈیوز مل جائیں گی۔ بہرحال 2004 سے یمن میں خانہ جنگی کی کیفیت رہتی ہے جس میں شدت 2011 کے مظاہروں کے بعد آتی ہے جس کے بعد علی صالح مستعفی ہوجاتے ہیں اور ایک اور فوجی آمر بر سر اقتدار آجاتا یے۔ 2014 میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف حوثی بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف فوج کشی کرتے ہیں جس میں انہیں عوامی حمایت حاصل ہوتی ہے اور وہ دارلحکومت ثنا پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ 2015 میں علی صالح کے ساتھ، جن کے خلاف 2011 میں انہوں نے مزاحمت کی ہوتی ہے، مل کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔

یہاں سے سعودی عرب اور متحدہ امارات کا ایک خوفناک رول شروع ہوتا یے۔ نئی حکومت کو ماننے کے بجائے وہ یمن پر بدترین بمباری اور محاصرے کا آغاز کرتے ہیں جو آج تک قائم ہے۔ 2016 میں کئی عالمی ادارے، بشمول WHO, یہ رپورٹ کرتے ہیں کہ سعودی، اماراتی، اور امریکی بمباری اور پابندیوں کی وجہ سے یمن میں قحط آچکا ہے جس سے ہزاروں بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس محاصرے کے دوران یمن ایران کے ساتھ اہنے تعلقات بہتر کرتا یے اور اپنی فوجی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتا یے۔ 2015 سے 2016 تک مغربی و سعودی بمباری، پابندیوں، اور پروپیگینڈہ کے باوجود حوثی مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ملک کے بیشتر علاقے پر اپنی حکومت قائم کرلیتے ہیں اور 2022 میں ایک امن معادہ بھی ہوجاتا ہے۔

اگلے سال غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف یمن پہلا ملک ہوتا ہے جو اسرائیل پر باقاعدہ حملہ بھی کرتا ہے اور باب المینداب کو بھی اسرائیلی تجارت کے لئے بند کردیتا ہے۔ اس فیصلے کی سزا کے طور پر ایک بار پھر ان پر بمباری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں پہل اسرائیل کرتا ہے جبکہ متحدہ امارات جنوبی کونسل نامی ایک علیحدگی پسند گروہ کی حمایت شروع کردیتا جسکئ وجہ سے اس کا سعودی عرب سے بھی تضاد بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال جنوری میں سعودی عرب نے امارات کے حمایتی جنوبی کونسل پر بمباری بھی کی اور اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے ترکی اور پاکستان سے مکہ معادہ بھی کیا۔

ایران جنگ نے اس مسئلے کو مزید پچیدہ کردیا یے۔ یمن میں اقتصادی اور عسکری محاصرہ بڑھ چکا ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل کی کوشش ہے کہ لبنان ایراب یمن شام سمیت پورے خطے میں مزاحمت کو کچل دیا جائے۔ اس لئے یہ معاملے صرف پراکسی کا نہیں بلکہ یمن کی اندرونی تاریخ اور عالمی سیاست سےجڑا ہوا یے۔ اسی طرح سعودی پر حملے بھی کوئی اچانک نہیں ہوئے بلکہ اس طویل تاریخ کا حصہ ہے جس میں مسلسل سعودی مداخلت نے یمن میں عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بھوک، غربت اور سماجی تباہی کو خوفناک حد تک اضافی کیا۔

اس تاریخ کا ادراک کئے بغیر ایک ایسی جنگ میں کود پڑنا جس میں یمن کی اندرونی پچیدگی کے ساتھ خطے میں مختلف ممالک شامل ہیں پاکستان کے لئے ایک بدترین ویتنام بن سکتا ہے۔ یہ کوئی حق یا باطل کی جنگ نہیں بلکہ ایک کمزور اشرافیہ کی سستے ڈالر کمانے کی بھیانک کوشش ہے جس کا خمیازہ نا صرف یمن کے عوام اور ہمارے فوجی جوان بھگتے گیں بلکہ کشیدگی کی ایک لہر پاکستان کے اندر بھی ہماری زندگیوں کو متاثر کرے گی۔ اس لئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کا مقصد یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا ہونا چاہئے نا کہ ایک فریق بن کر اغیار کی جنگ میں شامل ہونا۔ پہلے ہی ہم آج تک افغانستان کے نام نہاد جہاد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سےجو ممالک اشرافیہ کی مراعات پورا کرنے کے لئے چل رہے ہوتے ہیں، وہ نہ تاریخ سے سیکھتے ہیں اور نہ ہی کرائے کی جنگوں میں اپنوں کو مروانے میں دیر کرتے ہیں۔

The post یمن سعودی تنازعے پر پاکستان کی پوزیشن پر شدید تحفظات کا اظہار appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img