شیعہ نیوز: برطانوی اخبار کے مطابق یورپی ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اس منصوبے کی قانونی تفصیلات عمان نے برطانوی ماہرین قانون کے تعاون سے تیار کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ کی حکومت کے بعض سینئر حکام کا خیال ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، جیسے آبنائے ملاکا اور آبنائے مانش میں جہاز رانی کی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا نظام قانونی اور معمول کا عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جانا چاہیے، کاظم غریب آبادی
رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک ان تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
گارڈین نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز میں فیس وصول کرنے کی تجویز عمان نے برطانوی قانونی ماہرین کے تعاون سے تیار کی ہے، جس کی بنیادی ساخت آبنائے ملاکا میں نافذ نظام سے اخذ کی گئی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے نائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں لازمی فیس کا نفاذ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمان نے یہ بھی پیش کش کی ہے کہ وہ اس منصوبے کی تفصیلات واضح کرنے کے لیے اپنے قانونی ماہرین کا ایک وفد تہران بھیجے گا۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی آج عمان پہنچے ہیں، جہاں وہ عمانی حکام کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور، بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ پیش رفت پر مشاورت کر رہے ہیں۔
The post یورپ آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ فیس کی ادائیگی پر آمادہ ہوسکتا ہے، گارڑین appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


