حوزہ/پانچ محرم 61 ہجری تک کربلا کی سرزمین پر حالات مزید سنگین ہو چکے تھے۔ دشمن کے لشکر میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور امام حسینؑ کے گرد محاصرہ تنگ کیا جا رہا تھا۔ ظاہری نگاہ سے دیکھا جائے تو طاقت کا توازن مکمل طور پر ایک طرف جھکا ہوا نظر آتا تھا، لیکن کربلا کا حسن یہ تھا کہ یہاں تعداد نہیں بلکہ کردار بول رہا تھا۔ یہاں فوجوں کی کثرت نہیں بلکہ وفاداری کی عظمت تاریخ رقم کر رہی تھی۔


